خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 476

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء صعوبتیں اور تکالیف برداشت کیں ؟ صرف اس لئے کہ ایک دن مظہر جان جاناں لڈو کھا کر اپنا منہ میٹھا کرے۔اتنا ہی کہا تھا کہ وہ سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ کہتے ہوئے اپنے خیالات میں محو ہو گئے اور دیر تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے رہے۔پھر فرمانے لگے چھ مہینہ تک اس زمیندار نے رات اور دن کی کی تکلیف اٹھا کر غلہ پیدا کیا۔پھر اس کو تاجر نے خریدا۔پھر اس کو چکیوں میں پیسا گیا۔سینکڑوں نہیں ہے ہزاروں آدمی اس کام میں لگے اور انہوں نے میدہ تیار کیا۔مگر کام یہاں سے بھی شروع نہیں ہوا۔اس کی سے بھی پہلے ہل کیلئے لوہے کی ضرورت تھی۔اس لوہے کو لوہار نے کس طرح تپتی ہوئی گرمیوں کے موسم میں بھٹی کے پاس بیٹھ کر تیار کیا۔مگر اس لوہار نے بھی صرف لوہے کا آلہ بنا یا لوہے کو کانوں سے نکالا نہیں بلکہ اس کیلئے دُور دراز ملکوں میں ہزاروں لوگ تھے جو کانوں میں کام کر رہے تھے۔جنہوں نے اپنی کی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر اور تہہ خانوں میں دن رات کام کر کے لوہا نکالا۔پھر بیسیوں خچروں پر وہ لدلدا کر ہمارے ملک میں پہنچا۔یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھا لے۔غرض اس مضمون کو جو اگر وسیع کر کے الگ بیان کیا جائے تو کئی دن لگ جائیں ، بیان کرتے چلے گئے اور درمیان میں محبت الہی کا جذبہ ترقی کر جاتا تو سُبحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ کہنے لگ جاتے۔اسی کے بعد آپ نے لڈو میں سے ایک ذرا سا ٹکڑہ توڑا اور اسے اپنے منہ میں ڈالا کہ اتنے میں مؤذن پہنچ گیا ہے اور اُس نے عرض کیا کہ عصر کی نماز کو دیر ہورہی ہے۔چنانچہ آپ اُسی وقت کھڑے ہو گئے اور وہ لڈو و ہیں دھرے کا دھرا رہ گیا۔تو ایک عارف اور حقیقی علم رکھنے والا لڈو کی بھی کیسی قدر کرتا ہے۔اس لڈو کی جس کی دنیا کی نگاہ میں کوئی قدر نہیں۔اچھے سے اچھا لڈو آنہ دو آنے کو آجائے گا۔ایک چھوٹا بچہ جس کا وجود دنیا میں کسی فائدہ کا نہیں ہوتا ، اُس کو خوش کرنے کیلئے بعض دفعہ تم دو دو تین تین آنے کے لڈو کھلا دیتے ہو۔ایک فاسق و فاجر انسان جس کی نہ دین میں عزت ہے نہ دنیا میں ، اپنے منہ کے چسکے کیلئے دس دس لڈو کھا جاتا ہے۔پس وہ لڈو کیا چیز ہے جسے اتنی حقیر چیزوں کیلئے قربان کر دیا جاتا ہے۔لیکن خواجہ مظہر جان جاناں نے اسے ایک اور نگاہ سے دیکھا۔انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ ایک لڈو ہے جو میرا منہ میٹھا کرے گا بلکہ انہوں نے یہ دیکھا کہ کتنے آدمیوں نے اپنی جان کو اس لڈو کے تیار کرنے کیلئے ہلکان کیا اور اس لئے ہلکان کیا تا اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ لڈو کھائے۔ہزاروں نہیں لاکھوں ، لاکھوں نہیں کروڑوں ، کروڑوں نہیں ہے