خطبات محمود (جلد 18) — Page 406
خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۷ء صلى الله آپ نے فرمایا میرے رہنے کا کیا پوچھتے ہو، عقیل نے تو میرے لئے مکہ میں کوئی گھر نہیں چھوڑا جس میں میں رہ سکوں۔دراصل رسول کریم ع ه جب مدینہ تشریف لے گئے تھے تو آپ کے رشتہ داروں۔مخالفت کی وجہ سے آپ کے اکثر مکانات بیچ ڈالے تھے اور بعض پر خود قبضہ کر لیا تھا۔جس طرح انسان جب مرجاتا ہے تو اُس کے ورثاء اس کی جائداد پر قبضہ کر لیتے ہیں اسی طرح انہوں نے آپ کی جائدادی سے معاملہ کیا اور جب آپ مکہ میں فاتحانہ حیثیت میں داخل ہوئے تو کوئی ایسا مکان نہ تھا جسے آپ اپنا کی مکان کہ سکیں۔اب یہ کتنا دردناک نظارہ ہے کہ ایک بادشاہ ہونے کی حیثیت میں رسول کریم کے اپنے صل الله ملک اور اپنے شہر میں داخل ہوتے ہیں مگر کوئی گھر ایسا نہیں ملتا جسے آپ اپنا گھر کہہ سکیں۔آپ فرماتے ہیں مکہ میں تو ہمارے لئے کوئی گھر نہیں رہنے دیا گیا۔میدان میں خیمے لگاؤ اور وہاں میری رہائش کا انتظام کرو۔غرض یہ ساری چیز میں رسول کریم ﷺ کی ذات میں جمع تھیں اور پھر ساری عزتیں بھی آپ کی ذات میں جمع ہوئیں۔جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن ہمیشہ کیلئے مغضوب ہو گئے تھے، اسی طرح رسول کریم ﷺ کے بعض دشمنوں کو بھی خدا نے مغضوب قرار دیا۔جس طرح نوح کے دشمنوں کو کی خدا تعالیٰ نے گلی طور پر ہلاک کر دیا تھا اسی طرح آپ کے بعض دشمنوں کو بھی اس نے گلی طور پر ہلاک کیا۔جس طرح موسیٰ کے دشمنوں کو اُس نے پانی میں غرق کیا اسی طرح رسول کریم ﷺ کے دشمنوں کو بھی کی اس نے غرق کیا۔دونوں طرح یعنی خشکی میں بھی اور تری میں بھی۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد مکہ کے بعض بڑے بڑے سردار مکہ سے بھاگ نکلے اور وہ جہازوں میں سوار ہو کر کسی اور ملک کو جانے لگے تو سمندر میں ایسا طوفان آیا کہ وہ جہاز غرق ہو گیا اور سب پانی میں ڈوب گئے۔غرض وہ تمام انعامات جو پہلے انبیاء کو ملے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع تھے۔پھر موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تو آپ کے ساتھ پھر وہی سلوک ہوا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے کی ساتھ ہوا تھا۔حکومت غیر ہے ، دشمن زور میں ہے ، جماعت کمزور ہے ،لوگ گالیاں دیتے ہیں ہنسی کرتے ہیں، مذاق اُڑاتے ہیں، اشتعال دلاتے ہیں مگر جماعت کو یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ صبر کرو، صبر کرو اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتی ہے۔پھر جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو عدالتوں میں کھڑا کیا گیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی عدالتوں میں جانا پڑا۔یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ظالم کی مجسٹریٹ نے جب کہ آپ کا بڑھا پا تھا اور آپ کو اسہال کی تکلیف تھی اور سخت پیاس لگی ہوئی تھی آپ کو