خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 405

خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۷ء اور بیکسی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ جنگل کے درندے تمام دن ادھر اُدھر پھرنے کے بعد آرام کرنے کیلئے غاروں میں چلے جاتے ہیں۔پرندے فضائے آسمانی میں اڑتے ہیں تو کچھ وقت کے بعد اپنے گھونسلوں میں آرام کرنے کیلئے چلے جاتے ہیں۔مگر میرے لئے اس دنیا میں کہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں۔اب یہ الگ الگ قسم کی نعمتیں ہیں جو انبیاء کو ملیں اور الگ الگ سلوک ہیں جو خدا تعالیٰ نے ان سے کئے۔کیا ان مثالوں کو دیکھ کر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر خدا تعالیٰ نے نعمت صلى الله نازل نہیں کی۔مگر حضرت داؤد علیہ السلام پر کی کہ انہیں نبی بھی بنا دیا اور بادشاہ بھی۔پھر رسول کریم ہے کو دیکھو۔آپ چونکہ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے نوح والا معاملہ بھی کیا اور ابراہیم والا معاملہ بھی کیا۔موسٹی والا معاملہ بھی کیا اور داؤد اور عیسی والا معاملہ بھی کیا۔غرض سارے معاملے آپ سے ہوئے۔نوح کا معاملہ آپ سے اس طرح ہوا کہ یہود کے بعض قبائل آپ کے زمانہ میں بالکل تہہ تیغ کر دیئے گئے اور جس طرح نوح کے دشمنوں میں سے ایک شخص بھی نہیں بچا تھا اسی طرح ان قبائل میں سے ایک شخص بھی نہ بچ سکا اور سب تہ تیغ ہو گئے اور تہہ تیغ بھی اپنے فتویٰ کے مطابق ہوئے۔کیونکہ انہوں نے جس شخص کو فیصلہ کرنے کیلئے مقرر کیا تھا اُس نے یہی فیصلہ دیا کہ جس قدر مرد ہیں وہ تہہ تیغ کر دیئے جائیں۔لوگ اس پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے کی ( نَعُوذُ بِاللهِ ( ظلم کیا۔حالانکہ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ محمد یہ تمام نبیوں کے کمالات کے جامع تھے اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے آپ مظہر نہ ہوں۔پس چونکہ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے بھی مظہری تھے اس لئے ضروری تھا کہ جس طرح نوح کے دشمن سب کے سب ہلاک کئے گئے اسی طرح آپ کے بعض دشمن بھی تمام کے تمام ہلاک کئے جاتے۔پھر حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہا السلام کی طرح آپ کو ہجرت بھی کرنی پڑی اور اس ہجرت کے زمانہ میں کچھ وقت آپ پر ایسا آیا جب آپ سیاسی طور پر حکمران تو تھے مگر ملکی طور پر نہیں۔پھر کچھ وقت حضرت داؤد کی طرح آپ پر ایسا بھی آیا جب آپ سیاسی اور ملکی دونوں طرح بادشاہ تھے۔پھر آپ کو حضرت عیسی والی غربت بھی دیکھنی پڑی اور آپ نے مکہ میں بڑی بڑی تکالیف اُٹھا ئیں۔یہاں تک کہ جب مکہ فتح ہوا اور آپ ایک فاتح اور بادشاہ کی حیثیت میں اس میں داخل ہوئے تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ آپ کی رہائش کا انتظام کس گھر میں کیا جائے ؟ تب بعینہ وہی فقرہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے نکلا تھا رسول کریم ﷺ کی زبان سے بھی نکلا اور