خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 407

خطبات محمود ۴۰۷ سال ۱۹۳۷ء اس بات کی بھی اجازت نہ دی کہ آپ پانی پی سکیں۔اب کیا کوئی اس حالت کو دیکھ کر کہ ادھر تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ کہتے ہیں کہ مجھے سارے انبیاء کی خلعت ملی اور ادھر یہ حالت ہے کہ آپ کی بڑھاپے اور کمزوری اور اسہال کی حالت میں جب کہ آپ کو سخت پیاس لگتی ہے، مجسٹریٹ سے پانی پینے کی کی اجازت مانگتے ہیں اور وہ پانی پینے کی اجازت نہیں دیتا، کہہ سکتا ہے کہ آپ انعامات سے محروم رہے۔اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو وہ نہایت ہی احمق ہے کیونکہ انعامات مختلف اقسام اور مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں۔اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جس رنگ میں ایک پر انعام ہوا اسی رنگ کا انعام دوسرے پر بھی ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں مسلمانوں کو یہ بتایا ہے کہ بعض دفعہ ایک قسم کا انعام اگر تمہیں نہ ملے اور دوسروں کو مل جائے تو تم حرص اور لالچ نہ کیا کرو تمہیں کیا معلوم ہے کہ تمہارے لئے جو انعام مقدر ہے وہ کیسا ہے اور کس صورت میں ہے۔اگر ظاہری انعاموں کو ہی انعام کہا جائے تو پھر ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان انعامات سے محروم رہے اور حضرت عیسی علیہ السلام بھی ان انعامات سے محروم رہے۔اور پھر تم کو ماننا پڑے گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ان انعاموں سے محروم رہے اور اسی طرح اور بہت سے انبیاء مثلاً حضرت بیچی اور زکریا وغیرہ بھی انعامات سے محروم رہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں انہی کا ذکر فرماتا ہے کہ تم یہ وی دعا مانگو کہ الہی ! ہمیں اس راستہ پر چلا جس راستہ پر چل کر تیرے پیارے بندوں نے انعامات حاصل ! کئے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے کسی خاص شخص کا ذکر نہیں کیا بلکہ تمام منعم علیہ گروہ کا ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ی یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ مانگو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ مُوسی - کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے لئے موسوی انعام بہتر ہے یا عیسوی انعام بہتر ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نہیں کہا کہ تم یہ مانگو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ عِيسَى كيونہ ممکن ہے عیسوی انعام کے تم اہل نہ ہو تم ابراہیمی انعام کے مستحق ہو۔اور پھر یہ بھی نہیں کہا کہ تم کہو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ إبْرَاهِيمَ کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے لئے ابراہیم والا انعام موزوں ہے، ممکن ہے تمہارے لئے نوح کا انعام مقدر ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کا اس میں ذکر نہیں کیا بلکہ اس دعا میں عام رنگ رکھا اور فرمایا کہ تم یہ دعا مانگو کہ الہی ! ہمیں اس راستہ پر چلا جس راستہ پر چل کر موسی اور عیسی اور ابراہیم اور داؤد اور سلیمان اور نوح اور تیرے ہزاروں کامل اور اکمل بندوں نے جو صدیق ، شہید اور صلحاء تھے انعام