خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 341

خطبات محمود ۳۴۱ سال ۱۹۳۷ء جن پر مجھے اعتراض تھا ، اس لئے میں نے اس وجہ کو تسلیم کرتے ہوئے آج ارادہ کیا ہے کہ میں اپنا خطبہ حسب سابق بیان کروں۔خطبات کے متعلق ہماری جماعت کی پالیسی ہمیشہ غیر مہم رہی ہے۔جب کانگرس کا شور تھا یا ہجرت کا شور تھا یا بعض اور شور گورنمنٹ کے خلاف بپا تھے اُس وقت بعض لوگ مساجد کو اس رنگ میں استعمال کیا کرتے تھے کہ وہ خطبات میں گورنمنٹ کے خلاف وہ کچھ کہہ جاتے جو دوسرے موقعوں پر کہنے سے ڈرتے تھے۔اُس وقت میری طرف سے بھی اور ہماری جماعت کی طرف سے بھی گورنمنٹ کی حمایت کی کی جاتی اور کہا جاتا تھا کہ خطبات کو پولیٹکل تقریروں کا ذریعہ بنالینا درست نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم کی زندگی ساری کی ساری مذہبی ہوتی ہے اور اسلام سیاسیات کا بھی جامع ہے اور اقتصادیات کا بھی کی جامع ہے، معاملات کا بھی جامع ہے اور مدنیت لے کا بھی جامع ہے ، اخلاقیات کا بھی جامع ہے اور فلسفہ کا بھی جامع ہے،عقلیات کا بھی جامع ہے اور مذہب کا بھی جامع ہے۔غرض ہر چیز اس میں پائی جاتی ہے اور عام حالات میں خطبات میں سیاسی باتیں بیان کرنا مناسب نہیں ہیں۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ ایک منظم حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے خطبات کو ذریعہ بنا لینا فساد اور جھگڑے کا، یہ بھی درست نہیں۔یہ وہ باتیں جو ہم پہلے کہا کرتے تھے اور یہ وہ باتیں ہیں جو آج بدل نہیں گئیں۔پس جن حالات میں ہم 6% لوگوں پر اعتراض کیا کرتے تھے اگر انہی حالات میں ہم بھی وہی حرکت کریں تو یقینا ہم مجرم قرار پائیں گے۔پس اگر کسی مصلحت کے ماتحت کسی ایسے مسئلہ میں جو خالص مذہبی نہ ہو حکومت کا کوئی افسر قانون کے ماتحت اور اپنے جائز اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے خطیب کو یہ ہدایت دے دے کہ وہ فلاں مضمون کے متعلق کچھ بیان نہ کرے تو یقیناً ہم اسے حق پر سمجھیں گے۔لیکن خطبہ کو بحیثیت خطبہ اگر کوئی افسر قانون کے تابع کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کی بات کو ماننے کیلئے ہر گز تیار نہیں کیونکہ یہ مذہبی دست اندازی ہوگی۔اسی طرح اگر خطبات کو بالکل آزاد کر دیا جائے یا مذہبی عبادت گاہوں میں ہر قسم کی تقریروں کی آزادی دے دی جائے تو یقیناً مذہبی عبادت گاہیں جھگڑے اور فساد کا مرکز بن جائیں گی حالانکہ وہ جھگڑے اور فساد کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی یاد کا مرکز ہوتی ہیں۔یہ وہ اصل ہے جسے ہم ہمیشہ پیش کرتے رہے ہیں اور اب بھی ہم اسے کھولے ہوئے نہیں۔اور یہ نہیں ہو سکتا کہ جب دوسروں کا معاملہ ہو تو ہم اس پر اعتراض کریں لیکن جب اپنا معاملہ آجائے تو قابلِ اعتراض بات کو جائز قرار دے لیں۔پس اگر حکومت بعض