خطبات محمود (جلد 18) — Page 342
خطبات محمود ۳۴۲ سال ۱۹۳۷ء مصالح کے ماتحت کسی ایسے مسئلہ کو جو خالص مذہبی نہ ہو کسی وقت خطبات سے الگ کر دے اور ہدایت کر دے کہ خطبہ میں اس کا ذکر نہ آئے تو یہ اُس کا ایک جائز حق ہوگا۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ خطبہ ہی قانون کی زد میں آتا ہے تو ایسی حکومت نہایت ہی بیوقوف ہوگی جو مجرم کو اُس کی معتین حد تک روکنے کی بجائے مذہب میں دست اندازی شروع کر دے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے اپنی بات کی تشریح کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ خطبہ میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے طبائع میں اشتعال پیدا ہو۔گو ہمارے نقطہ نگاہ سے ان کی یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی اشتعال پیدا نہیں کرتے۔یہ ہمارے دشمنوں کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں کہ ہم لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں لیکن بہر حال اگر ایک افسر ہمیں ایسی ہدایت دیتا ہے تو ہم اس ہدایت کو اس کے کی دائرہ اختیار کے اندر سمجھیں گے گوہم یہ ضرور کہیں گے کہ اسے ہماری طبیعت کا علم نہیں۔اسے با وجود اس علاقہ میں رہنے کے ہمارے حالات ، ہمارے اعمال اور ہمارے عقائد سے کوئی واقفیت نہیں۔اس نے ہمارے متعلق دشمنوں کی بعض باتوں کو سنا اور ان پر یقین کر لیا مگر ہم اُس کی ہدایت کو غیر قانونی نہیں کہہ سکتے اور حکومت کا یہ حق ہے کہ اگر کوئی بات فساد اور شرانگیزی کا موجب ہو تو چاہے وہ بات خطبہ میں ہی بیان کی جانے والی ہو اس حصہ کے متعلق حکم دے دے کہ وہ بات خطبہ میں بیان نہ کی جائے۔اس کے بعد میں آج کے خطبہ کا مضمون لیتا ہوں۔چار پانچ دن کی بات ہے میں نے لاہور کا ایک اخبار جس کا نام ”احسان ہے پڑھا اور اتفاقی طور پر اُس کے ایک نوٹ پر میری نظر جا پڑی یا شاید دفتر نے اُس نوٹ پر نشان لگا کر میرے پاس بھجوایا تھا اس معاملہ کے متعلق میرا ذہن پورے طور پر صاف نہیں بہر حال’احسان کا جو نوٹ تھا اُس میں یہ لکھا تھا کہ لائل پور کے کسی احمدی نے کہا ہے کہ ہم خدا کے بعد مرز امحمود کو ہی سمجھتے ہیں۔اس نے یہ فقرہ درج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم پہلے بھی مرزا محمود احمد کوکی اس طرف توجہ دلا چکے ہیں ( گو میری نظر سے اس کا اس سے پہلے کوئی نوٹ نہیں گزرا )۔مگر انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور غالباً ساتھ ہی اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دیں گے کیونکہ ان کا عقیدہ یہی ہے اور باوجود اس عقیدہ کے یہ لوگ جھوٹے طور پر رسول کریم ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔میں جیسا کہ بیان کر چکا ہوں احسان" کا پہلا نوٹ میری نظر سے نہیں گزرا اور کسی کی اخبار کا خواہ وہ کتنی ہی وسیع اشاعت رکھتا ہو یہ سمجھ لینا کہ جس کے متعلق اس میں کوئی نوٹ لکھا گیا ہے اس کی