خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 340

خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۷ء خطبات جمعہ کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی (فرموده ۲۰ /اگست ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے پچھلے جمعہ میں یہ اعلان کیا تھا کہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے مجھے آکر مجسٹریٹ صاحب علاقہ کا یہ پیغام دیا تھا کہ جمعہ کا خطبہ بھی دفعہ ۱۴۴ کے ماتحت آتا ہے۔لیکن یہ کہ وہ خطبہ پڑھنے کی اجازت دے دیتے ہیں بشرطیکہ کوئی بات اس میں اس قسم کی نہ آئے جو موجودہ واقعات کے متعلق ہو اور جس سے کسی قسم کی شورش پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔میں نے اس پر یہ بیان کیا تھا کہ یہ کہنا کہ جمعہ کا خطبہ بھی دفعہ ۱۴۴ کے ماتحت آتا ہے، چاہے اس کے بعد مجسٹریٹ صاحب یہ کہہ دیں کہ میں خطبہ کے پڑھنے کی اجازت دیتا ہوں ، مذہب میں دست اندازی ہے اور یہ کہ جب تک گورنمنٹ کے ساتھ کوئی فیصلہ نہ ہو جائے میں مجسٹریٹ صاحب کی اجازت کے ماتحت خطبہ پڑھنے کیلئے تیار نہیں ہوں بلکہ دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ تک قانون کا احترام کرتے ہوئے صرف عربی کلمات پر ہی کفایت کروں گا۔لیکن اُسی دن خان صاحب سے مجسٹریٹ صاحب علاقہ کی جب دوبارہ گفتگو ہوئی تو انہوں نے خانصاحب سے ذکر کیا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور یہ کہ میرا اس سے وہ منشاء نہ تھا جو آپ نے سمجھا۔چنانچہ بعد میں ان کی طرف سے ایک تحریر بھی آئی جس میں انہوں نے لکھا کہ میرا وہ منشاء نہ تھا جو آپ لوگوں نے سمجھا بلکہ میرا منشاء صرف اتنا تھا کہ خطبہ میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو موجودہ شورش کو زندہ رکھنے والی ہو۔پس چونکہ انہوں نے خود اس کی ایک ایسی تشریح کی ہے جو ان معنوں کو بالکل بدل دیتی۔