خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 270

خطبات محمود ۲۷۰ سال ۱۹۳۷ء ہے مگر مصری صاحب کا طریق بالکل نرالا ہے جو حضرت آدم سے لے کر آج تک کسی نے اختیار نہ کیا ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ الزام بھی خود ہی دریافت کرو اور تحقیقات بھی خود ہی کرو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ الزامات بیان کرتے وقت ان کو کوئی معتین کہانی بیان کرنی پڑے گی۔ممکن ہے اعتراضات کی بوچھاڑ ہو تو پھر اس کہانی میں کسی تبدیلی کی ضرورت پیش آئے۔یا اس کو بالکل چھوڑ دینا مناسب ہو یا جو گواہ پیش کرنے ہوں وہ میسر نہ ہوں یا ان میں تبدیلی کی ضرورت ہو یا ان پر کوئی اعتراض ہو یا حملہ قرآنی تعلیم کے خلاف ہو۔تو انہوں نے آسان راہ یہ سوچی کہ میں صرف یہ شور مچاتا رہوں کہ کچھ الزام ہیں، کچھ الزام ہیں۔جماعت تحقیق کرے تاکہ لوگ اپنے طور پر جو الزام معلوم کریں اگر وہ ان کو غلط ثابت کر دیں تو میں کہہ دوں کہ میں نے تو یہ الزام نہیں لگائے ، یہ تو آپ خود لگا رہے ہیں۔یا تفصیلات جرح میں غلط ثابت کر دی جائیں تو میں کہ دوں کہ میں نے تو یہ نہیں کہا تھا اور پھر اپنے مطلب کے مطابق تفصیلات گھڑ لوں۔حالانکہ جو لوگ ان کے ساتھ متفق ہیں وہ برا بر لوگوں سے کہے جا رہے ہیں کہ ہمیں الزامات معلوم ہیں اور خفیہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔حتی کہ دور دراز کے پیغامی بھی نہایت گندہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے سامنے انہیں وہ باتیں بیان کرنے سے ہچکچاہٹ ہے جن باتوں کو وہ میاں ملتانی اور میاں عبدالعزیز اور اور پیغامیوں سے مزے لے لے کر بیان کر رہے ہیں وہ مبائعین سے کیوں نہیں کہتے ، وہاں خالی تحقیق کی تکرار کیوں کر رہے ہیں۔غرض مصری صاحب کی حرکت ایک ایسی حرکت ہے کہ دنیا کا کوئی معقول آدمی اسے سمجھ نہیں سکتا۔میں نے دنیا میں عجیب عجیب لوگ دیکھے ہیں مگر ایسا شخص کو ئی نہیں دیکھا۔ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ آپ نے اتنے محکمے بنائے ہوئے ہیں قضا ہے، امور عامہ ہے، لوکل کمیٹی ہے مگر میرا مقدمہ اتنی مدت سے دائر ہے، اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔میں نے کہا تم تسلی رکھو میں اس کی تحقیقات کراؤں گا۔چنانچہ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے مقدمہ کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے ، وہ جب پھر آئی تو میں نے کہا کہ تمہارا فیصلہ تو ہو چکا ہے شکایت کس بات کی ہے۔تو کہنے لگی کہ وہ بھی کوئی فیصلہ ہے ، وہ تو میرے خلاف ہے، فیصلہ کرنا ہے تو سیدھی طرح کیا جائے یہ ای کیا فیصلہ ہے کہ مجھے کہہ دیا تم غلطی پر ہو۔تو میں نے دنیا میں ایسے ایسے بیوقوف بھی دیکھے ہیں مگر ایسا کی بیوقوف کوئی نہیں دیکھا کہ جو کہے کہ الزامات میں لگاتا ہوں مگر انہیں میں بیان نہیں کرتا تم خود ہی معلوم کرواتی