خطبات محمود (جلد 18) — Page 271
خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۷ء اور پھر خود ہی تحقیقات کرو۔یہ عقل و خرد سے کلی طور پر آزاد نظریہ میں نے صرف مصری صاحب سے ہی سنا ہے۔آخر کوئی تو وجہ ہے جو وہ اپنے عائد کر دہ الزامات کو بیان نہیں کرتے۔یا تو وہ قانون کی گرفت سے ڈرتے ہیں یا اخلاق سے اور یا پھر شریعت سے۔وہ لوگوں کو تو کہتے ہیں کہ بے خوف ہو جاؤ مگر خود ڈرتے ہیں۔اور جب بے خوف ہو جانے کا وعظ کرنے والا خود بے خوف نہ ہو تو دوسرے کس طرح کی ہو سکتے ہیں۔انگریزوں میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی اور سالی کے ساتھ تماشہ دیکھنے گیا۔مگر جاتے ہوئے گھر کا دروازہ بند کرنا ھول گیا۔واپسی پر دروازہ کھلا دیکھا تو خیال کیا کہ کسی نے بعد میں کھولا ہے اور سمجھا کہ ضرور کوئی چور اندر چھپا بیٹھا ہے۔مغربی تمدن میں یہ بات داخل ہے کہ عورت کو اعزاز کا مقام دینے کیلئے دعوت وغیرہ کے موقع پر پہلے اسے اندر داخل کرتے ہیں اور پھر خود ہوتے ہیں۔اب یہ تینوں ڈرتے تھے اس لئے باہر ہی کھڑے ہو گئے۔مرد ڈرتا تھا کہ اگر میں پہلے داخل ہوا تو ایسا نہ ہو کہ اندھیرے میں چور مجھ پر حملہ کر دے اس لئے پیچھے ہٹ کر کہنے لگا Ladies First یعنی عورتیں پہلے کی داخل ہوں اور اس طرح اپنی طرف سے اخلاق کا اظہار کیا حالانکہ وہ بُزدلی کا اظہار کر رہا تھا۔جب اُس کی نے یہ کہا تو اُس کی سالی جھٹ بولی میں تو جا کر پولیس میں پہلے اطلاع دیتی ہوں اور دراصل اس کا مقصد یہ تھا کہ میں یہاں سے بھاگوں۔اس کی بہن کہنے لگی کہ یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اس وقت تمہیں اکیلی کی جانے دوں میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی اور وہ بھی اس کے ساتھ چل پڑی۔مرد نے یہ دیکھا تو جھٹ بول اُٹھا کہ بیشک چور کا معاملہ بہت اہم ہے مگر تم دونوں کا اکیلے جانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور یہ کہہ کر وہ خود بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔یہی حال شیخ مصری صاحب کا ہے۔عجیب بات ہے کہ یہ شخص عَلَى الْإِعْلان الزام لگاتا ہے، اس وقت تک چھ اشتہار شائع کر چکا ہے اور دستی اشتہار ملائے جائیں تو سترہ اٹھارہ بن جاتے ہیں اور شور مچا رہا ہے کہ لوگو! ظلم ہو گیا میں نے بیعت چھوڑ دی۔مگر اس کی سوال کا جواب کہ کیوں؟ میں نہیں دیتا تم خود تحقیقات کرو۔حالانکہ جو الزام لگا تا ہے اس کا فرض ہے کہ بتائے اور ثبوت پیش کرے۔نہ یہ کہ جس پر الزام لگایا جاتا ہے وہ تلاش کرتا پھرے۔ایک شخص کسی کے کان میں کہہ دے کہ تو چور ہے اور پھر کہے کہ یہ بتاتا کیوں نہیں کہ میں نے اس پر کیا الزام لگایا ہے تو یہ الزام لگانے والے کا کام ہوتا ہے کہ بتائے کیا الزام ہے اور اس کے کیا ثبوت ہیں۔مگر مصری صاح