خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 269

خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۷ء ہے۔اور پھر وہی شکایت کرتے ہیں جس کا ازالہ میں پچھلے خطبہ میں کر چکا ہوں۔یعنی یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے لکھا تھا کہ میں جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔حالانکہ میں نے جماعت سے نہیں بلکہ بیعت سے الگ ہونے کا لکھا تھا۔اور پھر اس امر پر بحث کرتے ہیں کہ بیعت سے خارج ہونا جماعت سے خارج ہونا نہیں اور اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ حضرت علی نے چھ ماہ تک حضرت ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی۔مگر کون کہ سکتا ہے کہ اُس وقت وہ مسلمان نہیں رہے تھے۔اسی طرح بعض اور صحابہ کی مثالیں دی ہیں۔پھر جماعت سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ پر فریب طریقہ خلیفہ نے اس لئے اختیار کیا ہے کہ لوگوں کی توجہ مصری صاحب کی طرف نہ ہو سکے اور جماعت ان کے براہین پر غور نہ کرے۔اور پھر لکھتے ہیں کہ صحیح طریق یہ تھا کہ جب میں نے الزام لگائے تھے تو خلیفہ کو لازم تھا کہ ایک آزاد کمیشن بٹھاتے مگر اس کی بجائے جماعت سے میرے اخراج کا اعلان کر دیا گیا۔پھر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا طریق یہ تھا کہ جب انہیں کوئی شکایت ہوتی کی وہ خلیفہ کے پاس جاتے اور اپنی شکایات پیش کرتے اور خلیفہ عَلَی الْإِعْلان اپنی غلطی کا اعتراف کرتا اور آئندہ کیلئے اس سے رجوع کرتا تھا۔اور پھر آخر میں یہی لکھتے ہیں کہ ایک آزاد کمیشن مقرر ہونا چاہئے جو تحقیقات کرے اور اپیل کرتے ہیں کہ دوستو! اٹھو اور مومنانہ حجرات سے کام لو، اس میں خلیفہ کی اجازت کی ضرورت نہیں۔یہ خلاصہ ہے ان کے اشتہار کا اور جنہوں نے پڑھا ہے، پڑھا ہی ہو گا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے اشتہار میں یا اس سے کسی پہلے اشتہار میں یہ نہیں بتایا کہ میں الزام کیا لگاتا ہوں۔یہ تو ہے کہ اٹھو، دوڑ و، فکر کرو، سب ہی کچھ کرومگر الزام تم خود ہی دریافت کرو اور تحقیقات بھی خود ہی کرو۔کیا کوئی عقلمند مصری صاحب کی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں میں الزام تو ایسے لگا تا ہوں کہ جن کی موجودگی میں انسان بیعت میں نہیں رہ سکتا اور انہی کی وجہ سے میں جماعت سے نکل گیا ہوں مگر میں ان کا ذکر نہیں کرتا، تم لوگ خودان الزامات کی تحقیق کرو۔میں الزام خود نہیں بتاؤں گا تمہیں چاہئے کہ خود تلاش کرو۔بھلا کون ایسا پاگل ہو گا کہ الزام لگانے والا تو کوئی بیان نہیں دیتا، کوئی ثبوت نہیں دیتا اور یہ خود سب باتوں کی تحقیقات کرتا پھرے۔تحقیقات کرنا تو انسانی فطرت میں داخل ہے۔ہر انسان حج ہے۔جب وہ کوئی بات سنتا ہے تو اس کی تحقیقات میں لگ جاتا ہے، اس کی کوئی نہ کوئی بناء قائم کرتا ہے اور پھر اس کے متعلق کوئی نہ کوئی فیصلہ کرتا ہے اور یہ روز مرہ ہوتا ہے۔ہر انسان کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے ایک حج بٹھا دیا