خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 201

خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۷ء طاقت میں نہیں کہ وہ مثلاً حضرت موسیٰ کی زبان سے اپنی تائید میں ایک بات نکلوائے۔حالانکہ وہ پیدا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دو ہزار سال بعد ہوا ہو۔یہی دلیل قرآن کریم میں رسول کریم علی اللہ کی صداقت کے ثبوت میں بھی پیش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اے محمد ! تیری بعثت کی خبر تو موسیٰ نے بھی اپنی کی کتاب میں دی ہے اگر تو راستباز نہیں تو کیا تو حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی موجود تھا یا کیا حضرت موسیٰ تیرے زمانہ میں ہوئے ہیں کہ تو نے ان سے مشورہ کر کے یہ پیشگوئی ان سے لکھوالی۔جب یہ دونوں صورتیں نہیں تو صاف معلوم ہوا کہ یہ خبر خدا تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی۔تو قرآن کریم اور پہلی اور پچھلی وحیاں ایک مومن کیلئے مشعل راہ ہیں۔جدھر یہ تینوں وحیاں لے جاتی ہوں گی وہی سچا راستہ ہوگا اور جس کے خلاف یہ تینوں وحیاں ہوں اُس کے جھوٹا ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوگا۔پس اس اصل کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے کسی ذاتیت کا سوال درمیان میں حائل نہیں رہتا۔اگر خدا کا کلام ہمارے خلاف پڑتا ہوتو اس میں کیا شبہ ہے کہ ہماری شکست یقینی ہے۔لیکن اگر خدا کا کلام ہمارے ساتھ ہو تو چونکہ خدا کے کلام کے لئے فتح اور غلبہ مقدر ہے اس لئے ہمارے لئے بھی فتح اور غلبہ مقدر ہے۔پھر اسی صورت میں دشمن سے ڈرنے کے کوئی معنے ہی نہیں۔ایک بچہ اگر کسی پہلوان پر حملہ کرے تو وہ پہلوان اس کے حملہ سے نہیں ڈرتا بلکہ سمجھتا ہے کہ یہ میری ایک ٹھوکر کی مار ہے۔اسی طرح جس کے ساتھ قرآن ہو، جس کے ساتھ اگلی پچھلی وحیاں ہوں اس کے ڈرنے اور خائف ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ایمانوں کو دیکھیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کو سمجھ کر مانا ہے تو پھر انہیں فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ان کا خدا ان کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو کون ہے جو اُس پر ہاتھ ڈال سکے۔دنیا مل سکتی ہے لیکن خدا کی باتیں کبھی نہیں ٹلتیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے متعلق بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت ایسے ایسے ابتلا آئے کہ مومنون کی بنیاد میں ہل گئیں اور وہ زُلْزِلُوا زِلْزَالَا شَدِيدًا لے کے مصداق بن گئے۔ان کی ہستیوں پر ایک شدید زلزلہ آیا اور لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے یثرب کے رہنے والو اب تمہاری شکست میں کوئی شبہ نہیں، اب تم یقینی طور پر مارے گئے۔مگر پھر وہی جو یہ کہتے تھے کہ تم مارے گئے بلوں میں چھپتے پھرتے اور ایسے بھاگے کہ انہیں سر چھپانے کی جگہ نہ ملی۔پس خدا تعالی کی باتوں پر یقین رکھو اور اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ہمارا کوئی مقابلہ