خطبات محمود (جلد 18) — Page 202
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بھی نفسانیت کی وجہ سے نہیں ہونا چاہئے۔ہمارا مقابلہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہے اور اللہ تعالیٰ کیلئے مقابلہ ہواس میں اگر ہماری شکست میں اللہ تعالیٰ کے دین کی فتح ہو تو ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ ہمیں شکست ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو فتح۔لیکن اگر ہماری فتح میں اس کی فتح ہے تو پھر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہماری فتح کو شکست میں تبدیل نہیں کر سکتی۔میں تمہارے ایمانوں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن جو ایمان خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے اور جو خبر میں خدا تعالیٰ نے مجھے دیں اور اپنے وقت پر پوری کی ہوئیں ان کو دیکھتے ہوئے میں ایک لمحہ کیلئے بھی اس امر میں شک نہیں کر سکتا کہ کسی میدان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے شکست نہیں ہو سکتی۔میں نے خدا تعالیٰ کی باتوں کا اتنا تجربہ کیا ہے کہ میں اس یقین پر پورے طور پر قائم ہوں اور یہ یقین مجھے آج حاصل نہیں ہوا کہ لوگ کہیں چونکہ تمہارے ساتھ بہت لوگ ہیں اس لئے ان کو دیکھ کر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔میں نے اُس وقت بھی اپنے دشمنوں سے مقابلہ کیا جب میرے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے اور اُس وقت بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کیا جب میں اکیلا تھا اور کوئی میرے ساتھ نہ تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے زمانہ میں لوگ مجھے ستاتے ، دکھ دیتے ، مجھ پر الزامات اور بہتا نات لگاتے اور کہتے کہ یہ خلافت کا مؤید اس لئے نہیں کہ سمجھتا ہے کہ خلافت کوئی ضروری چیز ہے بلکہ خلافت کا اس لئے مؤید ہے کہ خود خلیفہ بنا چاہتا ہے۔میں ان تمام باتوں کو سنتا اور برداشت کرتا تھا تی اور خدا شاہد ہے کہ بسا اوقات میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا بھی کی کہ خدایا ! اگر میرا وجو د سلسلہ کیلئے کی کسی لحاظ سے مضر ہے اور میں کوئی ایسا کام کر رہا ہوں جس سے سلسلہ کو نقصان پہنچنے والا ہے تو میرا وجود درمیان سے ہٹا دے۔مگر باوجود میری ان دعاؤں کے میرے خدا نے مجھے ہر میدان میں فتح دی۔پس یہ مت خیال کرو کہ کسی قسم کا حملہ چاہے وہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر تم سچے مومن ہو تو کوئی حملہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا اور دشمن خواہ کسی راہ سے آئے وہ دیکھے گا کہ خدا کے فرشتے ہماری راہ میں کھڑے ہیں اور ان کی تلواروں کا مقابلہ کرنے کی وہ اپنے اندر تاب نہیں رکھتا۔آج ہی جب کہ میں تازہ فتنوں کے متعلق غور کر رہا اور ان کے مقابلہ کی تجاویز سوچ رہا تھا تو خدا تعالیٰ نے علوم کا ایک دریا مجھے عطا فرمایا اور ایسا وسیع علم دیا جو میرے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھا اور ان میں سمجھتا ہوں اگر دشمن نے ہمارا مقابلہ کیا تو خدا تعالیٰ کی کتاب اُس کے منہ پر ایسا تھپڑ مارے گی کہ اُس کے دانت توڑ کر رکھ دے گی اور وہی حملے جو وہ ہم پر کرنا چاہتا ہے، اُس کی اپنی ہلاکت اور بربادی کا