خطبات محمود (جلد 18) — Page 200
خطبات محمود ۲۰۰ سال ۱۹۳۷ء انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ مجھے آپ سے بھی عقیدت ہے اور حضرت مرزا صاحب سے بھی عقیدت ہے۔میں یہ پہلے ہی سمجھتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نیک آدمی ہیں وہ قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔میں ان کے پاس گیا تھا اور میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت ہو جائے تو کیا آپ یہ دعوئی چھوڑنے کیلئے تیار ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں؟ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر قرآن کریم سے ایسا ثابت ہو جائے تو میں اپنے اس دعویٰ کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں اور وہ تو ایک آیت ہی کافی سمجھتے تھے مگر میں ان سے دس آیتوں کا وعدہ کی کر آیا ہوں پس آپ جلدی سے مجھے ایسی دس آیتیں لکھ دیں جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہو ، تا کہ میں انہیں جا کر دکھا دوں۔مولوی محمد حسین صاحب یہ گفتگو سُن کر بڑے جوش سے بول اُٹھے تجھ بیوقوف سے کس نے کہا تھا کہ تو اس بحث میں کود پڑے۔میں دو مہینے بحث کر کر کے انہیں کی حدیث کی طرف لایا تھا اور تو پھر قرآن کی طرف لے گیا۔وہ آدمی نیک تھے یہ سنتے ہی کہنے لگے مولوی ان صاحب ! اچھا یہ بات ہے! اچھا! تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔چنانچہ اس کے بعد وہ قادیان آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔غرض قرآن ہمارے لئے محبت ہے اور جب قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہو تو ہمیں کسی تی جھگڑے میں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر قرآن کریم ہمیں جھوٹا کہتا ہو تو ہمیں اس بات کا اقرار کی کر لینا چاہئے کہ ہم جھوٹے ہیں اور اگر قرآن کریم ہمیں سچا قرار دیتا ہو تو پھر کون ہے جو ہم پر فتح پا سکے۔قرآن کریم کیلئے دنیا میں غلبہ مقدر ہے اور قرآن کریم کے پہلے رکوع میں ہی اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ قرآن تو الگ رہا قرآن کریم پر عمل کرنے والے بھی مصلح ہیں۔یعنی جس طرح قرآن کیلئے غلبہ مقدر ہے اسی طرح قرآن کریم پر عمل کرنے والوں کیلئے بھی غلبہ مقدر ہے۔پس جو قر آنی ہتھیار چلاتا ہے وہی دشمن پر غالب رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔یعنی صداقت کا راستہ تلاش کرنے کیلئے سب پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے کیونکہ قرآنی الہام باقی تمام الہامات پر مقدم ہے۔اس کے بعد اس کے سوا دوسری وحیوں پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کیا بتاتی ہیں۔پس جس بات کی تائید قرآن کریم کی وحی اور پہلی اور پچھلی وحیاں کریں اس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ کسی انسان کی