خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 94

خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۷ء کرے اور سوچے کہ کیا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی یہی راہ ہے کہ اگر تو کوئی بڑا اعلیٰ رشتہ مل جائے تو تی احمدیوں میں کر لیا جائے لیکن اگر نہ ملے تو غیر احمدیوں میں ہی سہی۔ایسی تعلیم سے بہتر تھا کہ لڑکی کو تعلیم دلائی ہی نہ جاتی ، یہ تو بالکل دنیا داری ہے۔جو شخص ایسی تعلیم کو دین کہتا ہے وہ بالکل جھوٹا ہے۔اگر وہ دین کو حقیقتا مقدم کرنے والا ہوتا تو خواہ لڑکی چھ سو روپیہ تنخواہ کی حیثیت ہی رکھتی وہ کہتا کہ تعلیم تو ہم نے کی اللہ تعالیٰ کے لئے دلائی ہے اگر زیادہ تنخواہ کا رشتہ نہیں ملتا نہ سہی ، کسی تھوڑی تنخواہ والے سے ہی کر دیتے ہی ہیں۔یا اگر سید نہیں ملتا تو مغل سے ، راجپوت سے، پٹھان سے، جاٹ سے ہی سہی۔یہ تو بے شک دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے لیکن جب رشتہ نہ ملے تو غیر احمد یوں میں کر دینا خالصہ دنیا داری ہے۔بعض لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ فلاں عہدہ دار سے ہمارا رشتہ کیوں نہیں کرا دیا گیا۔مگر یہ نہیں سوچتے کہ دو احمد یوں میں سے ایک کو ہم ترجیح کیوں دیں۔ہم نوجوانوں کو یہ تو ضرور کہیں گے کہ کی احمدیوں میں شادی کرو اور مجبور کریں گے کہ غیر احمد یوں میں نہ کرو۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں جگہ کرو اور فلاں جگہ نہ کرو۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ آدمی کیلئے اگر دور شتے ہوں ایک تعلیم یافتہ اور ایک غیر تعلیم یافتہ تو ہم اسے بھی یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کر لو۔کیونکہ اُس کیلئے اور جوڑ ملنا مشکل ہوگا اور قوم کی خاطر قربانی کر لو۔لیکن اگر دونوں تعلیم یافتہ ہوں تو پھر اس خوف سے کہ ایک مُرتد ہو جائے گی ہم اسے اس کے ساتھ رشتہ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔اگر ان میں سے ایک نے مرتد ہونا ہی ہے تو ہم کیوں اُس کے ارتداد کی ذمہ واری اپنے اوپر لیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جسے وہ چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔اگر ہم اسے کہیں کہ الف سے شادی کرے کیونکہ اس کے مرتد ہونے کا خطرہ ہے اور دراصل اللہ تعالیٰ کے علم میں سب نے مُرتد ہونا ہو تو اس کی ذمہ واری ہم پری ہوگی۔اس لئے ہم اسے چھوڑ دیں گے کہ الف اور ب میں سے جس کے ساتھ مناسب سمجھے شادی کرے۔ہاں اگر وہ مشورہ مانگے تو دے دیں گے۔پھر خدا کی مشیت میں جس کیلئے ہدایت ہے وہ اس کا انتظام کرا دے گا۔اور اگر الف اور ب دونوں کیلئے ہدایت مقدر ہے تو ایک کو وہ شادی کے ذریعہ ہدایت دے دے گا اور دوسری کو قربانی کرا کے۔پس میں جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ماحول کو ایسے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرے کہ ایک دن دین کو دنیا پر مقدم کروں گا“ کا عہد سے توڑنا نہ پڑے۔