خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 93

خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۷ء انٹرنس پاس ہو تو سو ڈیڑھ سو روپیہ تنخواہ کا گریجوایٹ تلاش کیا جاتا ہے۔اگر ایف۔اے ہو تو اڑھائی تین سو کا گریجوایٹ اور بی۔اے پاس کر لینے کے بعد تو سات آٹھ سو کا ای۔اے سی تلاش کیا جاتا ہے اور اگر لڑ کی ایم۔اے ہو تو ولایت کا پاس شدہ تلاش کیا جاتا ہے اور یہ نہیں خیال کیا جاتا کہ جماعت میں ایسے کتنے لوگ ہیں۔کئی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ آپ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے۔ایسے لوگ مجھے بتائیں کہ آخر ہمارے گھروں میں بھی تو لڑکیاں ہیں۔کیا جماعت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نو جوانوں کو ہم نے اپنے لئے چن لیا ہے کہ انہیں شکایت پیدا ہوتی ہے۔ہاں غیر مبائعین کے متعلق یہ شکایت ہو تو ہو۔انہوں نے تو رشتوں کی خاطر بعض غیر احمدی اور بعض کمزور مبائع تک سمیٹ لئے ہیں۔اس کے برخلاف ہم نے با وجود اس کے کہ چھوٹی بڑی لڑکیاں ملا کر ہمارے گھر میں چالیس کے قریب لڑکیاں ہیں ، ان اعلیٰ تعلیم یافتوں میں سے یا اعلیٰ عہدیداروں میں سے کسی کو بھی اپنے لئے نہیں بچنا اور باقی جماعت کیلئے ان کو چھوڑ دیا ہے۔اگر ایسے اعلی تنخواہوں والے رشتے ہم نے سنبھال لئے ہوتے تو ہم پر اعتراض ہوسکتا تھا کہ اپنے رسوخ کی وجہ سے یہ رشتے خود سنبھال لئے ہیں اب ہم لوگ کیا کریں۔لیکن جب معاملہ اس کی کے برخلاف ہے تو پھر مجھ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اگر جماعت میں دس بیس کی جگہ سو دوسو ولایت کے پاس شد و یا اعلی تنخواہوں والے نوجوان نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔یہ تونَعُوذُ بِاللهِ اللہ تعالیٰ پر اعتراض پڑتا ہے کہ اس نے آپ لوگوں کے مناسب حال رشتے مہیا نہیں کئے۔میرے بس میں نہ تو یہ ہے کہ ولایت بھجوا بھجوا کر اعلیٰ تعلیم یافتہ نو جوان پیدا کروں اور نہ میرے اختیار میں یہ ہے کہ جب کسی کی جوان لڑکی اتنی تعلیم حاصل کر جائے کہ اُس کیلئے ولایت پاس رشتہ ہی موزوں ہو تو میں لاہور، امرتسر یا کسی اور بڑے شہر میں جاؤں اور وہاں کے ولایت پاس ہندوؤں ، سکھوں یا غیر احمدی مسلمانوں پر ہاتھ پھیروں اور کہوں کہ ہو جاؤ احمدی اور وہ احمدی ہو جائیں۔اگر میں ایسا کر سکتا تو پھر بھی میرا قصور ہو سکتا تھا لیکن جب ایسا نہیں تو پھر مجھ سے کیا شکایت ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ کئی وجوہ سے جماعت میں رشتوں ناطوں کی دقتیں پیدا ہورہی ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے متعلق تفصیلی ہدایات بلکہ راہنمائی کی ضرورت ہے۔مگر اس وقت میں تفصیلات کے بیان کرنے کی طاقت اپنے آپ میں نہیں پاتا اس لئے مختصراً جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان باتوں پر غور کی