خطبات محمود (جلد 18) — Page 78
خطبات محمود ۷۸ سال ۱۹۳۷ء دل ہے خدا تعالیٰ نے طاقتوروں کو اُس کے مقابل پر کھڑا کیا ، پھر اُس کمزور دل سے اُن کو شکست دلوائی اور دنیا پر ظاہر کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی وہ خود ہی کام کرنے والا تھا۔پھر ان لوگوں نے کہا کہ بڑھا تجربہ کار اور خرانٹ تھا۔تھا تو نرم دل مگر تجربہ کا راور عالم تھا۔تب کی اللہ تعالیٰ نے اُس شخص کو چنا جو پرائمری میں بھی فیل ہوتا رہا تھا۔جس نے کبھی کسی دینی مدرسہ میں بھی پڑھائی نہ کی تھی۔صحت کمزور تھی اور عمر صرف ۲۵ سال تھی۔جسے کبھی کوئی بڑا کام کرنے کا موقع نہ ملا تھا اور کوئی تجربہ کار نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم کہتے تھے نور الدین بڑھا، تجربہ کار اور علم والا تھا آؤ ہم اب اس سے کام لے کر دکھاتے ہیں جو نہ عمر رسیدہ ہے اور نہ عالم۔میرے خلاف تو سب سے بڑا اعتراض ہی یہ تھا کہ بچہ ہے ، نا تجربہ کار ہے۔پھر اس بچہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جس طرح شکستیں دی ہیں اور جس طرح ہر میدان میں ذلیل کیا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اہم اسلامی مسائل کا فیصلہ میرے ذریعہ سے کرایا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔وہ کونسا مسئلہ ہے جو پوشیدہ تھا اور خدا نے میرے ذریعہ سے اسے صاف نہیں کرایا۔کئی معارف چھپے ہوئے موتیوں کی طرح پوشیدہ پڑے تھے۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ نکلوایا ہے۔ایک طرف جماعت کی ترقی اور دوسری طرف اسلام کی ترقی کا کام اللہ تعالیٰ نے اس بچہ سے لیا اور اُن مطالب کا اظہار کیا جن سے دنیا فائدہ اُٹھا رہی ہے اور کی اُٹھاتی رہے گی۔مخالفوں نے کہا دراصل پیچھے اور لوگ کام کر رہے ہیں اور بعض نے کہا کہ مولوی محمد احسن کا جماعت میں رسوخ تھا ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہ سب کارخانہ چل رہا ہے۔اس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب کو ایسا ابتلا آیا کہ وہ لاہور چلے گئے اور جا کر اعلان کیا کہ میں نے ہی اسے خلیفہ بنایا تھا اور میں ہی اسے معزول کرتا ہوں۔مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ تم کون ہو خلیفہ بنانے والے؟ اور چونکہ تم نے ایسا دعویٰ کیا ہے اس لئے ہم تمہیں قوت عمل سے ہی محروم کرتے ہیں۔چنانچہ اُن پر فالج گراپھر وہ کی قادیان آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اور روروکر کہا کہ میرے بیوی بچوں نے مجھے گمراہ کیا ورنہ دل سے تو میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں۔سید حامد شاہ صاحب پُرانے آدمیوں میں سے تھے اور بہت کام کرنے والے، خدا تعالیٰ کی حکمت ہے وہ جلد فوت ہو گئے اُن کو بھی پہلے ابتلا آیا تھا مگر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہدایت کی دے دی اور وہ بیعت میں شامل ہو گئے۔ان کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں جو ابتلا میں ہیں اور بجائے سلسلہ کی