خطبات محمود (جلد 18) — Page 77
خطبات محمود LL سال ۱۹۳۷ء شان دیکھو کہ اُس نے آپ سے کتنا کام لیا۔سب نبیوں کو اُن کے مخالف پاگل کہتے آئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ بہت اچھا پاگل ہی سہی مگر ہمیں تو اُس شخص کی ضرورت ہے جو ہمیں خدا سے ملا دے اور اسلام کو دنیا میں قائم کر دے۔اگر پاگل سے یہ امور سرزد ہوں تو ہم نے فلسفیوں کو کیا کرنا ہے؟ بلکہ میں کہوں گا کہ لاکھوں فلسفیوں کو اُس کی جوتی کی نوک پر قربان کیا جاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے ابتدائی زمانہ میں لوگ کہتے تھے کہ مرزا صاحب تو نَعوذُ بِاللهِ جاہل ہیں۔سارا کام تو نور الدین“ کرتا ہے۔زمانہ گزرتا گیا گزرتا گیا اور گزرتا گیا۔پھر کہا گیا کہ نہیں ہماری غلطی تھی نورالدین صرف مضامین بتا تا ہے لکھنا اور بولنا نہیں جانتا۔مرزا صاحب کی تحریر اور تقریر میں بجلیاں ہیں جس دن آپ فوت ہوئے یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو خلیفہ مقرر کیا جن کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اور بولنا نہیں جانتے۔اس وقت تو لوگوں نے بیعت کر لی مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا یہ ستر ا بہتر ہے، لائی لگ ہے، کمز ور طبیعت ہے اور اگر اس مسئلہ کا فیصلہ اس کے زمانہ میں نہ کرایا گیا تو پھر نہ ہو سکے گا کیونکہ یہ تو ڈر جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت خلیفہ اول نے مسجد مبارک کے اوپر ان کو بلایا۔مولوی محمد علی صاحب ، خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب کے علاوہ جماعت کے دوسرے دوست بھی بکثرت تھے۔آپ نے فرمایا کہا جاتا ہے کہ تمہارا کام صرف نمازیں پڑھانا، درس دینا اور نکاح پڑھانا ہے مگر میں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کرو تم خود اس کی کی ضرورت سمجھ کر میرے پاس آئے۔مجھے خلافت کی ضرورت نہ تھی لیکن جب دیکھا کہ میرا خدا مجھے بلا رہا ہے تو میں نے انکار مناسب نہ سمجھا۔اب تم کہتے ہو کہ میری اطاعت تمہیں منظور نہیں۔لیکن یاد رکھو اب میں خدا کا بنایا ہو ا خلیفہ ہوں اب تمہاری یہ باتیں مجھ پر کوئی اثر نہیں کر سکتیں۔یا درکھو خلفاء کے دشمن کا نام قرآن کریم نے ابلیس رکھا ہے۔اگر تم میرے مقابل پر آؤ گے تو ابلیس بن جاؤ گے آگے تمہاری مرضی کی ہے چاہے انیس بنو اور چاہے مومن۔اس پر میری آنکھوں نے ان لوگوں کے چہرے زرد دیکھے ہیں۔جماعت میں اس قدر جوش تھا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ اگر حضرت خلیفہ اول نہ ہوتے تو لوگ شاید ان کو جان سے مار ڈالتے۔پھر میری آنکھوں نے وہ نظارہ بھی دیکھا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الا قول کے حکم سے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب آگے بڑھے اور دوبارہ بیعت کی۔گویا جسے وہ کہتے تھے کہ کمزور