خطبات محمود (جلد 18) — Page 79
خطبات محمود ۷۹ سال ۱۹۳۷ء ترقی کا موجب ہونے کے وہ نفاق کی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔تا خدا تعالیٰ کا جلال دنیا پر ظاہر ہو اور وہ بتا دے کہ وہ خود کام کر رہا ہے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں اور یہ ایک سچائی ہے جس کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان یا قلم سے قرآن کریم کے جو معارف بیان کرائے ہیں یا جو اور کوئی کام مجھے کی سے لیا ہے مجھ سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہ ہوگا اگر میں کہوں کہ یہ میرا کام ہے۔میں جب بھی بولنے کیلئے کھڑا ہوا ہوں یا قلم پکڑا ہے میرا دماغ بالکل خالی ہوتا ہے۔شاید سو میں سے ایک آدھ دفعہ ہی ہو جب کوئی مضمون میر ا سوچا ہو ا ہوتا ہے ورنہ میرا ذہن بالکل خالی ہوتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ سب کچھ اُسی کا ہے جس کا یہ سلسلہ ہے۔اگر میں اس پر اتراؤں تو یہ جھوٹی بات ہوگی ہاں جو غلطی ہو وہ بے شک مجھ سے ہے۔بھلا ایک انسان جو ظاہری علوم سے بالکل ناواقف اور بے بہرہ ہو وہ ان باتوں کو کیسے نکال ہے۔جو شاید آئندہ صدیوں تک اسلام کی ترقی کیلئے بطور دلیل کام دیں گی جیسے تعزیرات ہند ہندوستان کے لئے کام دیتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ غیر احمدی بھی اُن دلائل کو استعمال کر رہے ہیں جو میں نے پیش کئے ہیں۔تمدن کے متعلق اسلامی تعلیم یعنی ترک سود، زکوۃ اور وراثت کا قیام یہ تین نکات والی سہ پہلو عمارت کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ پچھلی صدیوں میں کسی نے تیار کی ہو۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھے ہی توفیق دی ہے اور میں نے ان مسائل کو بیان کیا۔پھر اور سینکڑوں مسائل ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے سکھائے۔سکتا۔پس یہ سلسلہ خدا کا ہے آدمیوں کا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی اسے بڑھائے گا۔انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔صرف ایک بات ہے جسے تمہیں یاد رکھنا چاہئے۔جب تک تمہارے اندر اطاعت اور فرمانبرداری رہے گی وہ نور تم کو ملتا رہے گا۔لیکن جب اطاعت سے منہ موڑو گے اللہ تعالیٰ کہے گا کہ جاؤ اب تو جوان ہو گئے ہو، اپنی جائداد سنبھالو۔تب تم محسوس کرو گے کہ تم سے زیادہ کمزور اور کوئی نہیں۔حضرت علیؓ کے بعد بھی مسلمانوں نے فتوحات حاصل کیں۔ملک فتح کئے علمی تمدن اور سیاسی غلبے پائے۔مگر جو برکت ، جوڑ عب، جو دبدبہ اور جو شوکت حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت على رَضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ کے زمانہ میں تھی وہ تیرہ سو سال میں پھر حاصل نہیں ہوئی۔اُس وقت تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دنیا کے سر پر پاؤں رکھ کر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہے جو ہمار- ہمارے