خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 545

خطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۷ء حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی آنریری مجسٹریٹی کیلئے کبھی مربعوں کیلئے افسروں کے بنگلوں کا طواف کرتے ہیں۔غرضیکہ وہ کسی نہ کسی غرض کے ماتحت انہی افسروں کے دربار میں حاضر ہی رہتے ہیں۔لیکن یہ نہ بھی ہو تو بھی کیا گھر کے کام کبھی ختم ہو جاتے ہیں؟ ان فکروں سے وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ کی جنت میں جو پنشن ملتی ہے اس میں کوئی فکر نہیں ہوتا۔وہاں جو دل چاہے حاصل ہو جائے گا اور حقیقی پنشن یہی ہے۔یا فرض کرو انسان کو خدا تعالیٰ ایسا بنا دے کہ اسے کام کرنے سے نہ کوئی تکلیف ہو نہ وہ تھکے تو وہ اگر ۴۸ گھنٹہ کام ہی کرتا چلا جائے تو اسے کیا بوجھ محسوس ہوسکتا ہے اور اگلے جہان میں جب نہ کوئی تکلیف ہوگی اور نہ تھکان تو کام بے شک ہوتا جائے اس کا کیا احساس ہو سکتا ہے۔یا پھر جس کام کی طرف رغبت ہو اُس میں تھکان محسوس نہیں ہوتی۔میں نے اخباروں میں پڑھا ہے کہ بعض لوگ مسلسل ۷۸ گھنٹے شطرنج کھیلتے رہے ہیں۔کھیل میں ان کو ایسی رغبت اور شغل ہوتا ہے کہ تکلیف کا خیال تک بھی نہیں آتا اور وہ کچھ محسوس ہی نہیں کرتے۔تو جس کام کی طرف رغبت ہو وہ بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔پس حقیقی پنشن وہی ہوگی جو اگلے جہان میں ملے گی۔اس جہان میں جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ چند روز دین کا کام کرنے کے بعد پنشن مل جائے گی وہ اگر آج نہیں تو کل ضرور منافق ہوگا۔بلکہ جو شخص اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی اولاد کیلئے بلکہ اس کی بھی اولاد کیلئے دین نی کے کام میں پنشن کی توقع رکھتا ہے وہ دوسرے لفظوں میں اپنی اولاد کی بے دینی اور نظام دین کی تباہی کی خواہش کرتا ہے۔دین کے کام میں پنشن ہو کیسے سکتی ہے۔کیا نمازوں میں اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پنشن دی ہے؟ روزہ میں دی ہے ؟ طاقت کے مطابق کسی کام سے بھی پنشن نہیں دی۔روزہ طاقت نہ ہونے کی حالت میں چھوڑا جا سکتا ہے۔مگر یہ پنشن نہیں ، یہ تو اُس وقت ہے جب آدمی روزہ رکھ ہی نہ سکے۔پھر کوئی شخص یہ خیال کس طرح کر سکتا ہے کہ دینی نظام سے پنشن مل جائے۔جس دن مسلمانوں نے خلافت سے پنشن کی اُسی دن سے اُن کو حقیقتاً پینشن مل گئی اور ان کی تمام ترقیات رُک گئیں۔پہلے پچاس سالوں میں مسلمانوں نے جو حکومت حاصل کی تھی ، اگلے تیرہ سو سال میں اس سے آدھی بھی نہیں کر سکے اور یہ ایک ایسا نشان ہے جو اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔پچاس سال میں ایک قوم نے کی اس قدر ترقیات حاصل کیں کہ بیسیوں اقوام مل کر تیرہ سو سال میں اس سے آدھی بھی نہ کرسکیں۔صحابہ کرام کے زمانہ میں ایک طرف مسلمان ہندوستان و چین کے ساحلوں تک پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف افریقہ