خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 546

خطبات محمود ۵۴۶ سال ۱۹۳۷ء کے جو حصے آباد تھے ان میں اپنی حکومت قائم کر چکے تھے اور تیسری طرف یورپ کے ساحلوں تک پہنچ چکے تھے۔تبلیغی لحاظ سے وہ چین کے اندر تک داخل ہو چکے تھے۔ہندوستان کے اندر بھی داخل ہو گئے تھے۔بمبئی کے علاقہ میں تھا نہ ایک بندرگاہ ہے جس کے پاس ایک گاؤں میں صحابہ کی قبریں موجود ہیں۔اس مجلس میں نوے فی صدی لوگ ہوں گے جنہوں نے بمبئی نہیں دیکھا۔حالانکہ وہ ہمارے ملک کا ایک حصہ ہے۔پھر ریل ایجاد ہو چکی ہے جو صرف ۳۶ گھنٹے میں وہاں پہنچادیتی ہے۔لیکن اُس زمانہ کے لوگوں کیلئے یہ سفر کئی ماہ کا تھا مگر پھر بھی وہ یہاں پہنچے اور اپنی قبریں بھی یہیں بنا دیں۔ہو پس دیکھو نظام کی کتنی برکت اور طاقت تھی۔جب تک کوئی قوم کام کی ذمہ داری سمجھتی۔ہے وہ ترقی کرتی جاتی ہے اور جس دن اس ذمہ واری کا احساس نہیں رہتا، ترقیات کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔اب میں بتا تا ہوں کہ وہ کام کیا ہے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَحَسِبْتُمُ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمُ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ - فَتَعَلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ہے یعنی اے انسانو! کچھ عقل سے کام لو۔تم جو سمجھتے ؟ ہماری زندگیاں دُنیوی ہیں دین کیلئے نہیں ہیں۔کیا تمہیں خیال ہے کہ ہم نے دنیا کو بلا وجہ پیدا کیا ہے۔کیا یہ ایک کھیل اور تماشہ ہے جس طرح بچے کھلونے بناتے اور پھر اسے توڑ ڈالتے ہیں۔ہم نے بھی دنیا کو اسی طرح بنایا ہے کہ پیدا کیا اور مار دیا۔کیا تم یہ خیال نہیں کرتے کہ بڑی عمر کا آدمی جب کوئی مکان بناتا ہے تو اسے توڑتا نہیں سوائے اس کے کہ اس میں کوئی نقص ہو اور خدا تعالیٰ کے کام میں تو کوئی نقص بھی نہیں ہوتا۔تم ایک عمارت بناتے ہو اور پھر اسے اُس وقت توڑتے ہو جب اس سے بہتر بنانے کا خیال ہو ورنہ نہیں۔ہاں بچے کھلونے بناتے ہیں۔ہم جب بچے تھے ہم بھی بنایا کرتے تھے اور اب بھی بچے بناتے ہوں گے یا ممکن ہے کوئی نئے کھیل اب نکل آئے ہوں۔بہر حال ہم اپنے بچپن کے زمانہ میں ریت کے میدانوں میں جاتے تھے اور اوپر کی خشک ریت ہٹا کر نیچے سے گیلی ریت نکال کر اُس میں کی پاؤں یا ہاتھ رکھ کر اوپر سے تھپکتے جاتے تھے اور اس طرح ریت کے مکان بناتے تھے۔پھر گھر کو آتے وقت لات مار کر انہیں تو ڑ دیا کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے بھی دنیا کو بچوں کے کھیل کی طرح پیدا کیا ہے۔یعنی ہم انسان کو پیدا کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد اسے مار دیتے ہیں۔گویا بچے کی کھیل کو د گھنٹے دو گھنٹے کی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی چند سال کی۔کیا تم سمجھتے ہو ہم نے یہ سب