خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 431

خطبات محمود £ ۴۳۱ دُنیا انبیاء اور خلفاء کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کے نور کا مشاہدہ کرتی ہے (فرموده ۱۷ ستمبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- گزشتہ اتوار کی رات میں نے ایک عجیب رویا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑا جلسہ گاہ ہے۔مگر اس رنگ کا نہیں جیسا کہ ہمارا جلسہ گاہ ہوا کرتا ہے۔بلکہ جیسا کہ تاریخوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ روم کی میں بڑے بڑے قومی اجتماعوں کیلئے ایفی تھیٹر (AMPHI THEATRE) بنائے جایا کرتے تھے۔اسی رنگ کا وہ جلسہ گاہ ہے۔یعنی جو خطیب ہے اُس کے سامنے مربع یا مستطیل شکل میں جلسہ گاہ نہیں بلکہ ہلالی شکل میں ہے۔جس طرح گھوڑے کا نعل بیچ میں سے خالی ہوتا اور قریباً نصف دائرہ یا اس سے کچھ زیادہ بناتا ہے۔اسی طرح ایک وسیع میدان میں جو نصف میل یا میل کے قریب ہے اس طرح پہینچ لگے ہوئے ہیں جس طرح پہلے دن کا چاند ہوتا ہے۔ایک گول دائرہ ہے جو دور فاصلہ سے شروع ہو کر دونوں کناروں سے آگے بڑھنا شروع ہوتا ہے۔اور جس طرح چاند کی ایک طرف خالی نظر آتی ہے اسی طرح ایک طرف اس دائرہ کی خالی ہے اور وہاں لیکچرار یا خطیب کی جگہ ہے۔اس وسیع میدان میں کہ لوگوں کی شکلیں بھی اچھی طرح پہچانی نہیں جاسکتیں بہت سے لوگ لیکچر سنے کیلئے بیٹھے ہیں اور جو درمیانی جگہ خطیب کی ہے جہاں چاند کے دونوں کو نے ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں وہاں میں کھڑا ہوں سال ۱۹۳۷ء