خطبات محمود (جلد 18) — Page 432
خطبات محمود ۴۳۲ سال ۱۹۳۷ء اور اس وسیع مجمع کے سامنے ایک تقریر کر رہا ہوں۔وہ تقریر الوہیت، نبوت اور خلافت کے متعلق اور ان کے باہمی تعلقات کی نسبت ہے۔گولیوں بھی میری آواز خدا تعالیٰ کے فضل سے جب صحت ہو تو بہت بلند ہوتی ہے اور دور دور سنائی دیتی ہے۔لیکن وہ دائرہ اتنا وسیع ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے دُگنی آواز والا شخص بھی اپنی آواز ان لوگوں تک نہیں پہنچا سکتا۔مگر رویا میں میری آواز اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس وسیع دائرہ کے تمام سروں تک میری آواز پہنچ رہی ہے۔اسی ضمن میں میں مختلف آیات قرآنیہ سے اپنے مضمون کو واضح کرتا ہوں اور بعض دفعہ تقریر کرتے کرتے میری آواز اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سروں تک پہنچ رہی ہے۔جب میں اپنی تقریر کے آخری حصہ تک پہنچتا ہوں تو اُس وقت میری حالت اس قسم کی ہو جاتی ہے جس طرح کوئی شخص جذب کی حالت میں آجا تا ن ہے۔میں نے اُس وقت الوہیت، نبوت اور خلافت کے متعلق ایک مثال بیان کر کے اپنے لیکچر کو ختم کیا اور اُس وقت میری آواز میں ایسا جلال پیدا ہو گیا کہ اسی کے اثر سے میری آنکھ کھل گئی۔مجھے صرف وہ مثال ہی یا درہ گئی ہے باقی مضمون بھول گیا ہے۔وہ مثال میں نے رویا میں یہ دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء اور اس کے خلفاء کے تعلق کی مثال چوکٹھے میں لگے ہوئے آئینہ کی ہوتی ہے۔آئینہ کا کام تو در حقیقت درمیانی شیشہ دیتا ہے مگر اس شیشہ کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی لگی ہوئی ہوتی ہیں۔جیسے آئینہ کے پیچھے قلعی ہوتی ہے اور اس کے ارد گرد چوکٹھا ہوتا ہے۔لیکن دراصل جو چیز ہماری شکل ہمیں دکھاتی ہے اور جو چیز ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہماری راہ نمائی کرتی ہے، وہ آئینہ ہی ہے۔نہ وہ قلعی جو اس کی کے پیچھے لگی ہوئی ہوتی ہے وہ اپنی ذات میں شکل دکھا سکتی ہے اور نہ وہ چوکٹھا جو اس کے ارد گر د لگا ہوتا ہے وہ ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہمیں کوئی ہدایت دے سکتا ہے۔لیکن آئینہ بھی عیب اور صواب ہمیں تبھی بتاتا ہے جب اُس کے پیچھے قلعی کھڑی ہو۔اور وہ محفوظ بھی اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ وکٹھے میں لگا رہتا ہے۔چنانچہ چوکٹھوں میں لگے ہوئے آئینے لوگ اپنے میزوں پر رکھ لیتے ہیں اور اس طرح وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔مگر جب ہم اس کے چوکٹھے کو اُتار دیں اور اُس کی قلعی کو کھرچ دیں تو آئینہ بلحاظ روشنی کے تو آئینہ ہی رہتا ہے مگر پھر وہ ہماری شکل ہمیں نہیں دکھاتا۔اور اگر دکھاتا ہے تو نہایت دُھندلی سی۔جیسے مثلاً ( یہ مثال میں نے رویا میں نہیں دی۔صرف سمجھانے کیلئے بیان کر رہا ہوں) دروازوں میں وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں کھڑکیوں میں بھی وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جو