خطبات محمود (جلد 18) — Page 404
خطبات محمود ۴۰۴ سال ۱۹۳۷ء آپ کی شدید مخالفت کی اور آگ میں ڈال کر آپ کو جلانا چاہا تب اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرح یہ نہیں کہا کہ ابراہیم میں تیرے تمام مخالفوں کو برباد کر دوں گا بلکہ یہ کہا اے ابراہیم ! یہ گندہ علاقہ ہے اس علاقے کو چھوڑ دے۔اور اللہ تعالیٰ ان کو عراق سے فلسطین میں لایا جو بہت بڑے فاصلہ پر واقع تھا۔آجکل ریلی کی وجہ سے لوگ اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ فاصلہ کس قدر زیادہ ہے۔مگر پرانے زمانہ میں جبکہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ میل کے بعد یہ خیال کیا جا تا تھا کہ دنیا ختم ہو گئی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عراق سے فلسطین ہجرت کر کے آنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔وہ عراق سے چلے گئے اور راستہ کے تمام بیابان طے کرتے ہوئے کنعان میں پہنچے۔جہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی۔یہ انعام ان کو بیشک ملا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بادشاہت نہیں ملی۔آپ تجارت کرتے تھے اور کچھ جانور رکھے ہوئے تھے جن پر آپ کا گزارہ تھا۔کنعان آکر کچھ زمینیں آپ کو تحفہ کے طور پر آپ کے مریدوں کی طرف سے مل گئیں۔جہاں آپ گلے چراتے اور تجارت کرتے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان سے معاملہ خدا تعالیٰ نے بالکل اور رنگ میں کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہجرت بھی کرائی اور انہیں لاکھوں کی کی قوم دے کر اس کا انہیں بادشاہ بھی بنادیا لیکن ملک آپ کو عطا نہیں کیا۔آپ جسموں پر بیشک حکومت کرتے تھے مگر کسی ملک پر آپ نے حکومت نہیں کی۔گویا سیاسی بادشاہت آپ کو حاصل تھی مگر ملکی نہیں۔اور پیشتر اس کے کہ آپ کنعان کی سرزمین تک پہنچتے یہود کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے چالیس سال تک جنگلوں میں پھرنے کی سزادی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اسی عرصہ میں وفات پا گئے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملکوں پر حکومت نہیں ملی ، ہاں انسانوں پر حکومت آپ کو بے شک مل گئی۔پھر حضرت داؤد علیہ السلام آئے تو انہیں اللہ تعالیٰ نے ملکوں پر بھی حکومت عطا کی اور جسموں پر بھی حکومت عطا کی۔حالانکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے۔لیکن باوجود تابع نبی ہونے کے بادشاہت اور نبوت دونوں ان میں جمع تھیں۔اور بادشاہت بھی دونوں قسم کی یعنی ملکی بادشاہت بھی اور سیاسی بادشاہت بھی۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو باوجود اس کے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے، آپ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے درجہ میں بڑھ کر تھے، پھر بھی آپ ایسی غربت اور کمزوری کی حالت میں آئے کہ آپ کہتے ہیں درندوں کیلئے ماندیں ہیں اور پرندوں کیلئے گھونسلے مگر ابن آدم کیلئے سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں۔اے گویا وہ اپنی بے بسی