خطبات محمود (جلد 18) — Page 403
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء شائق ہو تو پھر مجلسیں بناؤ اور ان کے صدر بن جاؤ۔ہماری طرف سے تو جو عزت ملے گی وہ اسی طرح ملے گی کہ تم اپنے آپ کو کلیہ ہمارے آستانہ پر ڈال دو۔اور اس امر کو جانے دو کہ تمہیں کیا انعام ملے۔تم ہمارے قرب اور ہمارے وصال کے طلب گار بن کر ہمارے پاس آؤ۔پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ بھی ہمارا بالکل ویسا ہی سلوک ہوتا ہے جیسے دوسروں کے ساتھ۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت کے راستہ میں نہ کوئی نبی روک بن سکتا ہے نہ کوئی خلیفہ۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کی بعض نمازیں خدا تعالیٰ اس لئے قبول نہ کرے کہ اگر میں نے اس شخص کی یہ نمازیں قبول کیں تو یہ روحانیت میں خلیفہ سے ترقی کر جائے گا۔تم جتنی عبادتیں چاہو کرو، تم جس قدر اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہو کھینچو خدا کے قرب کے دروازے تمہارے لئے گھلے ہیں اور اس میں کوئی خلیفہ روک نہیں بن سکتا۔غرض جو حقیقی عزت ہے اس کی راہ میں نہ خلیفہ روک ہے اور نہ نبی۔بلکہ انبیاء اور کی خلفاء اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول میں لوگوں کے مُمد ہوتے ہیں۔جیسے کمزور آدمی پہاڑ کی چڑھائی پرتی نہیں چڑھ سکتا تو سونے یا کھڈسٹک کا سہارا لے کر چڑھ جاتا ہے۔اسی طرح انبیاء اور خلفاء لوگوں کیلئے سہارے ہیں۔وہ دیواریں نہیں جنہوں نے الہی قرب کے راستوں کو روک رکھا ہو بلکہ وہ سونٹے اور سہارے ہیں جن کی مدد سے کمزور آدمی بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔پس اگر کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء اور خلفاء کے وجود سے قُرب الہی کی روکیں پیدا ہوگئی ہیں تو وہ بیوقوفی کا نی خیال ہے۔حقیقی کمالات کے حصول کی راہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بننے کے طریق ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور انبیاء وخلفاء اس میں روک بننے کی بجائے لوگوں کیلئے محمد ہوتے ہیں۔پھر دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو بڑی بڑی امنگیں تو نہیں رکھتے مگر انہیں اس بات پر ٹھوکر لگ جاتی ہے کہ فلاں درجہ فلاں کو کیوں مل گیا، ہمیں کیوں نہیں ملا۔ان کیلئے بھی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں جواب ہے۔اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعامات ایک قسم کے نہیں بلکہ مختلف قسم کے ہیں۔دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوح کے ساتھ یہ معاملہ ہوا کہ اُس نے ان کے تمام دشمنوں کو غرق کر دیا۔لیکن ابراہیم کے ساتھ اس نے یہ سلوک کی نہیں کیا کہ ان کے دشمنوں کو اس نے اس طرح غرق کیا ہو۔بلکہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم ہجرت کی کر کے چلے جاؤ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اصل وطن اور تھا جو عراق کا علاقہ ہے۔وہاں لوگوں۔