خطبات محمود (جلد 18) — Page 395
خطبات محمود ۳۹۵ سال ۱۹۳۷ء کہ انعامات حاصل کرنے کے بعد میں پھر گمراہ ہو جاؤں اور ارتداد کے گڑھے میں گر جاؤں۔اس کا یہ کہنا کہ فلاں شخص ایمان لانے کے بعد مرتد کیوں ہو گیا، بیوقوفی اور حماقت ہے۔اگر بڑے انعاموں کے حاصل کرنے کے بعد انسان مرتد نہیں ہو سکتا تو یہ دعا کیوں سکھائی گئی ہے جو تہجد اور اشراق اور ضحی اور دوسرے نوافل کو اگر نکال بھی دیا جائے تو کم از کم پانچ وقت فرض نمازوں میں انسان مانگتا اور ہر رکعت میں مانگتا ہے۔پھر فرائض کے علاوہ سنن اور نوافل ہیں جن میں یہی دعا مانگی جاتی ہے اور یہ نوافل عصر کے ساتھ بھی ہیں اور صبح کے ساتھ بھی ہیں اور دوسری نمازوں کے ساتھ بھی ہیں۔ان سب میں انسان یہی دعا مانگتا ہے اور کم سے کم چار دفعہ ہر نماز میں خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ یا اللہ ! میں اعلیٰ سے اعلیٰ مومن بن جاؤں۔مگر ایمان میں کمال حاصل کرنے کے بعد پھر منافق نہ بن جاؤں۔ایمان میں کمال حاصل کرنے کے بعد پھر مرتد نہ ہو جاؤں۔جب اتنی دفعہ ایک انسان یہ اقرار کرتا اور تسلیم کرتا ہے کہ منعم علیہ گروہ میں شامل ہو کر بھی انسان مغضوب اور ضال بن سکتا ہے تو اس کیلئے کسی انسان کا مرتد ہونا ہرگز کوئی عجیب بات نہیں ہوسکتی۔اگر یہ ابتلاء لوگوں کو شاذ و نادر کے طور پر آنا ہوتا تب بھی اتنی لمبی اور مسلسل دعا کی جو ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے ضرورت نہیں تھی۔مگر اس دعا کا مسلسل مانگا جانا بتا تا ہے کہ اس قسم کے ابتلا ء ایسے شاذ نہیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی قوم پر انعام نازل ہوتے ہیں تو وہی انعام اس قوم کو تباہ بھی کر دیا کرتے ہیں اگر اس قوم میں خشیة اللہ نہ ہو۔ہاں اگر خشیة اللہ ہو تو وہ اس تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔اسی لئے ساری دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جسے ترقی اور عروج کے بعد زوال نہ ہوا ہو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انعام جہاں خوشی کا موجب ہوتے ہیں وہاں قوموں اور افراد کی تباہی کا موجب بھی ہو جاتے ہیں۔جیسے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے بعد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ لا کر خدا نے بتا دیا کہ ہر انعام اپنے ساتھ ایک مخفی ابتلاء بھی رکھتا ہے اور مومنوں کو چاہئے کہ وہ ان ابتلاؤں سے محفوظ رہنے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہیں۔یہ ابتلا عموماً دو وجہ سے آیا کرتے ہیں اور اگر مومن ان وجوہ کو یا درکھیں تو ابتلاء آنے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔ایک وجہ ابتلاء آنے کی یہ ہوتی ہے کہ انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب کی میرے لئے انعام کے دروازے بند ہیں۔جب کسی انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ اب میرے لئے انعام کے حصول کے دروازے بند ہیں وہ تباہی کی طرف جانا شروع کر دیتا ہے۔