خطبات محمود (جلد 18) — Page 394
خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۳۷ء کو اور زندگی ملے آپ کو اور درجہ ملے اور آخر وہی بات پوری ہوئی جو خدا اور اس کے فرشتوں نے کہی۔وہ بات تو پوری نہ ہوئی جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہی تھی۔تو دنیا کی طرف سے جو عز تیں آتی ہیں وہ کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔ہاں جو عزت خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے وہی حقیقی عزت ہوتی ہے اور وہ اُنہی کوملتی ہے جو خدا تعالیٰ کی خشیت اپنے دل میں رکھتے ہی ہوں۔ظاہری نام کے رٹ لینے سے وہ عزت نہیں مل سکتی۔تو انسان کیلئے دنیا میں ہر مقام پر گرنے کا خطرہ ہے سوائے اس کے کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں خدا خودا سے محفوظ قرار دے دے اور کہہ دے کہ اب تیرے گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔غرض سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ تم اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا ہمیشہ پڑھتے رہو۔یہ نہ ہو کہ ترقی کرتے کرتے تم کسی مقام پر پہنچ کر خوش ہو جاؤ اور سمجھ لو کہ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمارا ایمان خراب نہیں ہوسکتا۔فرمایا یہ ہما راحق ہے کہ ہم کہیں جو چا ہو کر وہ تمہاراحق نہیں۔کیونکہ خدا جب کسی بندے کو کہتا ہے کہ اب تو جو جی میں آئے کر تو اس کے بعد اس کی نگرانی بھی کرتا ہے۔لیکن بندہ جب اپنے متعلق خود بخود یہ مقام تجویز کر لیتا ہے تو چونکہ نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اس لئے وہ ٹھوکر کھاتا اور کی گر جاتا ہے۔یہ وہ سورۃ ہے جو ہم پانچ وقت نمازوں میں روزانہ پڑھتے ہیں اور پھر پانچوں نمازوں کی ہر ایک رکعت میں پڑھتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ الہی ! منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے بعد ہم ارتداد کے گڑھے میں نہ گر جائیں۔پھر وہ بات جس کا کسی نماز میں چار دفعہ کسی نماز میں پانچ دفعہ، کسی نماز میں دس دفعہ اور کسی نماز میں گیارہ دفعہ ہم اقرار کرتے اور کہتے ہیں کہ منعم علیہ گروہ میں کی شامل ہونے کے بعد بھی انسان بعض دفعہ مغضوب اور ضال بن جاتا ہے۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ یہ کیا می ہو گیا ، اس سے زیادہ بیوقوفی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی گورکن روزانہ ریں کھو دے اور لوگوں کو اپنے ہاتھ سے لحد میں اُتارے اور پھر لوگوں سے یہ کہے کہ کیا لوگ مر بھی جاتے ہیں؟ جب وہ روزانہ لوگوں کو دفن کرتا اور ان کی قبریں کھودتا ہے تو اُس کا موت پر تعجب کرنا بیوقوفی نہیں تو اور کیا کہلائے گا۔اسی طرح ایک انسان جب روزانہ پانچ دفعہ خدا تعالیٰ کے حضور جاتا اور کئی کئی رکعتوں میں تو اتر اور تسلسل کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ یا اللہ ! تو مجھے بڑے بڑے انعامات دیجیو مگر ایسا نہ ہوتی