خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 396

خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۳۷ء دراصل یہ قانونِ قدرت ہے کہ جب بھی یہ خیال پیدا ہو جائے کہ انعام کے دروازے اب ہمارے لئے بند ہیں خواہ کسی قوم کے دل میں یا بعض افراد کے دل میں آئے وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پر متبعین قرآن کو لے او، قرآن ہمارے ہاتھ میں بھی وہی ہے جو غیر احمدیوں کے ہاتھ میں ہے۔انہی کے شائع کردہ قرآن ہم پڑھتے ہیں۔لغتیں بھی انہی کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔مگر باوجود اس کے جب کی قرآن غیر احمدیوں کے ہاتھ میں جاتا ہے تو وہ بولتا ہی نہیں خاموش رہتا ہے۔مگر جب ہمارے ہاتھ میں آتا ہے تو اتنا بولتا ہے، اتنا بولتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے اس کے معارف ختم ہونے میں ہی نہیں آتے۔اور واقع میں اس کے معارف ختم ہونے ہی نہیں آتے۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ بظا ہر نہایت چھوٹی سی ہے اور وہ یہ کہ غیر احمدیوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر جو ان کے بزرگ لکھ گئے اس کے بعد قرآن کریم کے معارف کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور کسی پر کوئی ایسا نکتہ نہیں گھل سکا جو پہلے بزرگ نہ لکھ گئے ہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب وہ قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں وہی تفسیر میں ملتی ہیں جو ان کے بزرگ لکھ گئے ہیں۔کوئی نئی بات ان پر منکشف نہیں ہوتی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں آکر بتایا کہ قرآن مجید کے متعلق یہ کہنا کہ اس کے معارف کا دروازہ بند ہو چکا ہے کفر کا کلمہ ہے۔اس میں سے نئے سے نئے معارف نکل سکتے ہیں اور نئی سے نئی تفسیر میں اس کی آیات کی ہو سکتی ہیں۔جب ہم اس نکتہ اور اِس خیال کے ماتحت قرآن مجید کو پڑھتے اور ان اس پر غور اور تدبر کرتے ہیں تو ہمیں نئی سے نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور ہم پر وہ وہ معارف گھلتے ہیں جو ی پہلے مفسرین نے اپنی کسی تفسیر میں نہیں لکھے۔ہم یہ مانتے ہیں کہ ان مفسروں نے بڑی بڑی محنتیں کیں اور قرآن کریم کے اچھے اچھے معارف اور نکتے دنیا کے سامنے پیش کئے۔مگر ہم یہ ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم کے معارف محدود ہوں اور جو پہلوں پر معرفت کی باتیں گھل چکیں اُن سے زائد کوئی باتیں قرآن کریم میں نہ ہوں۔جب اس مادی دنیا کی ایجادات کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تو ہم یہ کس طرح مان لیں کہ عالم روحانی کی ایجادات کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔پس چونکہ ہم اس نیت سے قرآن کریم کے پاس جاتے ہیں کہ وہ ایک زندہ کتاب ہے جو اپنی معرفت کے تازہ بتازہ پھل ہمیں کھلائے گی اس لئے خدا ہمارے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو ایک سخنی میز بان اپنے مہمانوں کے ساتھ کرتا ہے۔جس طرح حاتم طائی کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ مہمانوں کو دیکھتا تو اپنے اونٹ اور اپنی بکریاں ذبح کی