خطبات محمود (جلد 18) — Page 360
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء وہ ایسی وادی ہے جس میں کچھ بھی پیدا نہیں ہو سکتا تو پھر اعلیٰ قسم کے تربوز اتنی کثرت سے کہاں سے آجاتے ہیں۔سو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ گدھوں والے مکہ سے طائف جاتے ہیں اور طائف سے بڑے کھنگھر اپنے بوروں میں بھر لیتے ہیں جب وہ واپس آتے اور مکہ میں پہنچتے ہیں تو تمام کھنگھر تربوز۔ہوئے ہوتے ہیں۔پھر کہنے لگے ہمارے ایک دادا تھے، وہ بڑے بزرگ اور اللہ تعالیٰ کے کامل ولی تھے۔ایک دفعہ وہ بغداد سے جہاز پر سوار ہوئے۔راستہ میں جہاز کہیں گھنٹہ بھر ٹھہرا تو وہ کہنے لگے میں فلاں بزرگ سے مل آؤں۔لوگوں نے انہیں کہا کہ جہاز نے یہاں صرف ایک گھنٹہ ٹھہرنا ہے اور آندھی بھی آئینی ہوئی ہے، آپ نہ جائیں۔مگر وہ کہنے لگے نہیں میں ضرور جاؤں گا اور اگر میں ایک گھنٹہ تک نہ آؤں تو میرا انتظار نہ کیا جائے اور جہاز بے شک روانہ ہو جائے۔چنانچہ ایک گھنٹہ تک جہاز کھڑا رہا مگر وہ نہ آئے اور جہاز چل پڑا۔جس وقت جہاز بمبئی پہنچا تو لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی بزرگ ساحل بمبئی پر ٹہل رہے ہیں۔لوگوں نے عرض کیا حضرت آپ کہاں؟ کہنے لگے مجھے جب معلوم ہوا کہ جہاز چل پڑا ہے تو میں نے کھڑاواں پہنی اور بھاگ کر بمبئی آ گیا۔پھر کہنے لگے وہ بزرگ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں جمعہ کے دن فوت ہوں گا اور میرا جنازہ کشمیر کی شاہی مسجد میں پڑھا جائے گا اور وہیں میں دفن ہوں گا۔چنانچہ ایک دن جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ چکے تو لوگوں سے کہنے لگے بھائیو ذرا ٹھہر جانا میں اب فوت ہونے لگا ہوں ، مجھے نہلا دھلا کر جانا۔وہ کہنے لگے کہ آپ تو کہا کرتے تھے کہ میرا کشمیر میں جنازہ ہوگا اور وہیں میں دفن ہوں گا مگر آپ فوت یہیں ہونے لگے ہیں۔انہوں نے فرمایا تم فکر نہ کرو وہ بھی ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے کلمہ پڑھا اور فوت ہو گئے۔لوگوں نے انہیں نہلایا دھلایا اور پھر کفن پہنا کر چار پائی پر لٹا دیا۔بس جو نبی انہوں نے نعش چار پائی پر رکھی وہ کیا دیکھتے ہیں کہ نعش غائب ہے۔ادھر سرینگر کی جامع مسجد میں جب جمعہ ہو چکا تو امام صاحب نے لوگوں سے کہا بھائیو! ذرا ٹھہر جانا یہاں ایک بہت بڑے بزرگ کا جنازہ آنے والا ہے۔لوگوں نے کہا یہاں تو کوئی بزرگ فوت نہیں ہوا۔امام صاحب کہنے لگے ابھی جنازہ پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ وہ مصلے پر بیٹھ گئے اور انہوں نے تھوڑی دیر ہی تسبیح پھیری تھی کہ یکدم ایٹہ سے جو علی گڑھ کے قریب ہے، چار پائی پر جنازہ وہاں آ اُترا اور سب نے ان کا جنازہ پڑھ کر انہیں وہیں دفن ہے کر دیا۔یہ قصہ سنا کر وہ میر محمد الحق صاحب سے کہنے لگے میاں معجزے تو یہ ہوتے ہیں۔وہ بھی کیا معجزے ہیں جو مرزا صاحب نے دکھائے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات اور ان صاحب کے مذکورہ کی