خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 359

خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۷ء آپ کے ان اخلاق کو پیش کرے گا جو ساری دنیا کی کملیوں والوں پر کیا ، ساری دنیا کے نبیوں اور رسولوں پر آپ کی فضیلت ثابت کر دیتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو ان تعریفوں میں رسول کریم ﷺ کا مقابلہ کر سکے۔پھر جب یہ لوگ رسول کریم ﷺ کے معجزات بیان کرتے ہیں تو ایسے ایسے معجزات بیان کرتے ہے ہیں جنہیں سن کر بجائے متاثر ہونے کے لوگ ہنستے ہیں اور پھر جب ہندوؤں کے سامنے ان قصوں کو رکھا تھی جاتا ہے تو وہ ان سے بھی بڑے بڑے قصے اپنے بزرگان کے متعلق سنا دیتے ہیں کیونکہ خالی قصوں پر اگر دین کا مدار ہو تو قصے بنانے کوئی مشکل کام نہیں۔ہمارے ایک عزیز تھے جو احمدی نہیں تھے وہ ایک دفعہ قادیان آئے۔میر محمد الحق صاحب اُس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔چھوٹی عمر میں انسان دعوئی زیادہ کر لیتا ہے اور بعض دفعہ جب اسے کوئی نئی دلیل ملتی ہے تو وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکتا اور وہ اس بات سے ناواقف ہوتا ہے کہ نہ ماننے والے کئی راستے نکال لیتے ہیں۔اُن دنوں حقیقۃ الوحی تازہ تازہ چھپی تھی اور چونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بہت سے معجزات کا ذکر کیا ہے اس لئے میر محمد الحق صاحب حقیقۃ الوحی لے کر ان کے پاس چلے گئے۔اُس وقت میر صاحب کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی۔انہوں نے خیال کیا کہ جونہی میں نے اس کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات بیان کئے وہ احمدیت کی صداقت فورا تسلیم کریں گے۔خیر وہ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آگئے اور مجھے آکر کہنے لگے کہ میں نے ان کی خوب خبر لی ہے۔وہ ہماری تمام باتیں مان گئے ہیں اور اب وہ بیعت کرنے کے بالکل قریب ہیں۔میں نے کہا تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر ان کے پاس جائیں گے تو پتہ لگ جائے گا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ دوبارہ ان سے ملے اور مل کر واپس آئے تو کہنے لگے وہ تو جی عجیب آدمی ہیں۔میری باتیں سن کر تو کہتے رہے کہ ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہے مگر جب آخر میں میں نے کہا تھ کہ جب تمام باتیں درست ہیں تو آپ احمدیت کو قبول کر لیجئے تو وہ کہنے لگے میاں ! یہ معمولی ولایت کے کمال ہیں ان سے کسی کو مامور تھوڑا ہی مانا جاسکتا ہے اور یہ تو ادنی باتیں ہیں۔جو کامل ولی ہوں وہ تو اس سے بھی بڑے بڑے معجزات دکھا سکتے ہیں۔پھر انہوں نے خود ایک قصہ سنایا۔کہنے لگے تم نے سنا ہوگا کہ مکہ میں تربوز بہت اچھے ہوتے ہیں۔اب قرآن میں لکھا ہے کہ وہ وادی غَيْرِ ذِي زَرع ہے"