خطبات محمود (جلد 18) — Page 361
خطبات محمود ۳۶۱ سال ۱۹۳۷ء معجزات کی آپس میں کوئی نسبت نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ صرف اوہام باطل تھے۔مگر جب تاریخی معجزات سے لوگ یہ سلوک کریں تو ان معجزات کا کیا حال ہو گا جو رسول کریم ﷺ کے اصلی معجزات کو چھوڑ کر لوگوں نے خود بطور کہانی کے بنالئے ہیں۔پھر اس قسم کے غیر تاریخی معجزات جب مسلمان مولوی ہندوؤں کے سامنے بیان کرتے ہیں تو وہ اس سے بھی بڑھ کر معجزے بیان کر دیتے ہیں۔چنانچہ ہندو کہتے ہیں کہ ایک نیل کنٹھ ۱۳ کا بچہ تھا اسے پیدا ہوئے ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ وہ اپنی ماں سے کہنے گا اماں اماں ! مجھے بھوک لگی ہے۔ماں نے کہا کہ میرے پاس تو تمہارے لئے کچھ نہیں۔وہ کہنے لگا اچھا تو اماں مجھے اجازت دے کہ میں باہر جا کر کچھ کھا پی آؤں۔ماں کہنے لگی تمہیں باہر جانے کی تو میں اجازت دے دیتی ہوں مگر دیکھنا کسی برہمن کو نہ کھا جانا۔لطیفہ یہ ہے کہ اسے پیدا ہوئے ابھی صرف ایک گھنٹہ گزرا ہے اور ماں کی ہدایت اسے یہ ہے کہ کسی برہمن کو نہ کھا جانا۔خیر وہ کھانے کی تلاش میں باہر نکلا۔آگے اُس نے کیا دیکھا کہ ایک بارات آرہی ہے ہے جس میں سینکڑوں ہاتھی ، گھوڑے اور اونٹ ہیں اور ہزاروں آدمی اس بارات میں شامل ہیں۔ان کے پاس کھانے کا بھی لاکھوں من سامان ہے۔اس نے یہ دیکھتے ہی سڑک پر اپنی چونچ رکھ دی اور تمام اونٹ ، گھوڑے، ہاتھی اور باراتی کھچے کھچے اُس کے پیٹ میں چلے گئے۔غلطی سے ایک برہمن بھی وہ کھا گیا۔مگر جب اسے معلوم ہوا کہ ایک برہمن بھی پیٹ میں چلا گیا ہے تو اس نے پیٹ مرور مراڑ کر برہمن کو اگل دیا اور پھر وہ لاکھوں من کھانا بھی کھا گیا جو بارات کے ساتھ تھا۔اس کے بعد اسے پیاس لگی تو وہ ایک دریا پر گیا اور اُس پر چونچ رکھ کر پانی پینا شروع کر دیا اور اتنا پانی پیا کہ آخر وہ دریا سارے کا سا را خشک ہو گیا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ راجپوتانہ میں یہ دریا ہوا کرتا تھا مگر آجکل وہاں ریت ہی ریت ہے۔اس کے بعد وہ آرام کرنے کیلئے ہمالیہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چلا گیا اور سو گیا۔چنانچہ آج تک وہ ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر آرام کر رہا ہے۔غرض مسلمانوں کے مولوی اس قسم کی مضحکہ خیز باتیں رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے اور ایسے معجزات آپ کے بیان کرتے ہیں کہ جن کے مقابلہ میں دشمن اس سے بھی بڑے بڑے معجزات پیش کر دیتا ہے اور وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔مگر ہم رسول کریم ﷺ کے وہ معجزات بیان کرتے ہیں کہ جنہیں سن کر دشمن کے منہ پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ بات تک نہیں کر سکتا۔جب ہم دشمن کے سامنے