خطبات محمود (جلد 18) — Page 170
خطبات محمود ۱۷۰ سال ۱۹۳۷ء نہ آسکتا ہو یا بیمار اور معذور ہو۔اس قسم کی مستثنیات ہمیشہ موجود ہوتی ہیں۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے بھی مستثنیات کا سلسلہ کیسا شروع کیا ہے۔ہماری شریعت کا حکم ہے اگر انسان کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھا جائے۔بیٹھ کر نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر پڑھ لے اور اگر لیٹ کر اشاروں سے بھی نہ پڑھ سکے تو دل میں ہی جی پڑھ لے۔پھر وضو کیلئے کس طرح مستقلی مقرر کر دیا کہ پانی سے وضو کرو اور اگر پانی نہ ملے تو تیم کرلو۔غرض ہر حالت کیلئے ہماری شریعت نے مستثنیات رکھی ہیں۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ خواہ کیسی ہی حالت ہو نماز کیلئے مسجد میں آنا چاہئے۔ایک شخص بیمار ہو تو وہ بیماری کی حالت میں مسجد میں نہیں آسکتا۔ایک شخص اپنے کاروبار کے لئے دو تین میل دور جاتا ہے تو اس کیلئے سوائے اس کے کہ کوئی صورت نہیں کہ یا اکیلے کی نماز پڑھے یا کسی اور کو اپنے ساتھ شامل کر کے جماعت کرالے۔تو ان مستثنیات کو علیحدہ کر کے کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے تمام دوست نماز با جماعت میں شامل ہوں۔بعض افسر شکوہ کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کو توجہ دلاتے ہیں مگر وہ پھر بھی نماز با جماعت کیلئے نہیں آتے۔میرے نزدیک اتنی مایوسی کی حالت نہیں ہوتی جتنی وہ ظاہر کرتے ہیں۔آخر جو شخص خدا اور اس کی کے رسول پر ایمان لاتا ہے اُس کے سامنے اگر کھول کر بیان کیا جائے کہ اسلام نے نماز با جماعت کی کتنی تاکید کی ہے اور اس کے کیا کیا فوائد ہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کوئی شخص با جماعت نماز میں شامل ہونے میں تا مل کرے سوائے ایسے شخص کے جس کے ایمان میں خلل واقع ہو چکا ہو۔تو میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو ی پورے طور پر سمجھایا نہیں جاتا۔اس وجہ سے وہ چھوٹے چھوٹے حرج کے خوف سے نماز با جماعت میں شامل ہونے سے کوتاہی کر جاتے ہیں۔لیکن اگر سلسلہ کے علماء اس طرف توجہ کریں اور وہ گھروں پر پہنچ کر لوگوں کو ان مسائل سے آگاہ کریں تو میں سمجھتا ہوں بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو جائے اور جو با وجود سمجھانے کے اپنی اصلاح نہیں کرے گا اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ مومن نہیں کیونکہ اس نے اپنے نفاق پر خود مُہر لگا دی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جو نماز با جماعت کی پابندی نہیں کرتا وہ منافق ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ عشاء اور فجر کی نمازوں میں نہیں آتے ، میرا جی چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو آگ لگادوں کے ظہر، عصر اور شام کی نمازوں میں زمیندار اپنے کھیتوں میں کام کر رہے ہی ނ ہوتے ہیں یا کام ختم کر کے واپس آنے کی تیاری میں ہوتے ہیں اس لئے اُس وقت سب مسلمانوں نے یہ امید کرنا کہ وہ مسجد میں آئیں ایک ناواجب مطالبہ ہے۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے ان نمازوں کا