خطبات محمود (جلد 18) — Page 169
خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۷ء نفع کا حاصل کرنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے۔بلکہ میں یہ بھی کہ سکتا ہوں کہ گو پہلے زمانہ کی نسبت نماز با جماعت کی کی پابندی اب زیادہ ہے مگر جب میں نے ابتدا میں یہ ہدایت کی تھی تو جس زور وشور سے لوگ با جماعت نماز میں شامل ہوا کرتے تھے وہ زور وشور مجھے اب نظر نہیں آتا۔میں نے تاکید کی تھی کہ خصوصیت سے بچوں اور نو جوانوں کو مساجد میں لایا جائے۔کیونکہ اسی عمر میں انہیں باجماعت نماز کی عادت پڑ سکتی ہے۔چنانچہ اس کے مطابق کثرت سے بچے اور نوجوان مساجد میں آتے اور چھوٹی مسجد کے متعلق تو مجھے معلوم ہے کہ وہ بالکل پر ہو جاتی تھی اور دوسرے حصہ مسجد میں بعض کو نماز پڑھنی پڑی تھی۔مجھے یاد ہے اُس وقت نہایت کثرت سے بچے آتے مگر اب وہ شکلیں مجھے کم نظر آتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب لوگوں میں نماز باجماعت کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے اور نماز کے فوائد اُن کے کانوں تک نہیں پہنچتے تو ی آہستہ آہستہ لوگ ان مسائل سے غافل ہو جاتے ہیں اور دین میں بہت بڑا رخنہ واقعہ ہو جاتا ہے۔حالانکہ نماز با جماعت کے کئی فائدے ہیں۔اول تو نماز با جماعت کی پابندی سے اسلام اور ایمان مضبوط ہوتا ہے۔گویا یہ پہلا فائدہ ہے جو نماز با جماعت سے حاصل ہوتا ہے۔دوسرے نماز با جماعت کی ادائیگی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے۔تیسرے جماعت میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔چوتھے لوگوں کو ایک دوسرے کے حالات کا علم ہوتا رہتا ہے۔پانچویں جب بغیر کسی خاص تحریک کے پانچ وقت اجتماع ہو تو اس اجتماع سے یہ فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے که ضروری مسائل سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت کیلئے ضروری تقاریر کی کرائی جائیں۔ان فوائد میں سے آخری فائدہ ایسا ہے جو خود توجہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔اگر توجہ نہ کی جائے تو یہ حاصل نہیں ہو سکتا۔مگر چونکہ ہماری جماعت نے پانچ وقتوں کے اجتماعات سے اس لحاظ سے فائدہ اُٹھانے کی طرف توجہ نہیں کی اس لئے میں دیکھتا ہوں کہ کی قادیان میں بعض دفعہ معمولی دینی مسائل سے بھی لوگ ناواقف رہتے ہیں۔پس آج ایک تو میں تمام محلوں والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک کو نماز با جماعت کی میں شامل ہونا چاہئے سوائے اس کے جو اتنی دور کام پر گیا ہوا ہو کہ وہاں سے مسجد میں نماز با جماعت کیلئے