خطبات محمود (جلد 18) — Page 171
خطبات محمود لا سال ۱۹۳۷ء ذکر نہیں کیا ورنہ جماعت کے ساتھ تو سب نمازیں ہی ضروری ہیں۔پس اُس وقت ہمارا بھی ان سے یہی مطالبہ ہو گا کہ اگر وہ اکیلے ہیں تو اکیلے نماز پڑھ لیں اور اگر کوئی دوسرامل سکے تو اُس سے مل کر جماعت کرالیں۔لیکن عشاء اور فجر دو وقت ایسے ہیں جب لوگ بالعموم اپنے گھروں پر ہوتے ہیں۔زمینداروں میں سے ایک حصہ گو ایسا بھی ہوتا ہے جو فجر سے پہلے اپنے کھیتوں میں چلا جاتا ہے لیکن زیادہ تر گھروں پر ہی موجود ہوتے ہیں۔پس چونکہ یہ ایسے وقت ہیں جن میں غذر بہت کم اور شاذ ہوتا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ عشاء اور فجر کی نماز میں نہیں آتے ، میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی اور کو امام بناؤں جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور کچھ لوگ اپنے ساتھ لوں اور ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے رکھوا دوں اور ان لوگوں کے مکانوں پر جا کر جو عشاء اور فجر کی نمازوں میں نہیں آتے آگ لگا دوں اور انہیں گھروں سمیت جلا ڈالوں سے دیکھو ہماری شریعت میں نماز باجماعت نہ پڑھنے کے متعلق کتنا شدید حکم ہے اور وہ بھی ایسے انسان کی طرف سے جو رحم مجسم تھا۔جس نے شدید ترین دشمنوں سے عفو کا سلوک کیا۔وہ سمجھتا ہے کہ جو لوگ نماز با جماعت میں شامل نہیں ہوتے وہ اس قابل ہیں کہ زندہ جلا دیئے جائیں۔کیونکہ ان میں انسانیت کا شائبہ تک باقی نہیں رہا۔اگر شریعت کے یہ احکام لوگوں کو بتائے جائیں اور رسول کریم ﷺ کی احادیث سے انہیں مسائل سمجھائے جائیں تو میں سمجھتا ہوں جو مومن ہیں وہ اپنی اصلاح ضرور کر لیں گے۔پس محلہ کے افسروں پر اس کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اسی طرح سلسلہ کے علماء پر بھی بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔اول تو ہر محلہ کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کو سمجھائیں جو نماز با جماعت میں شامل نہیں ہوتے اگر ان کے سمجھانے سے نہ سمجھیں تو سلسلہ کے علماء کو ان کے پاس لے جائیں اور سمجھانے کی کوشش کریں۔اور اگر کوئی ایسا ہو جس کی پھر بھی اصلاح نہ ہو تو اُس کی شکایت کی میرے پاس کی جائے۔لیکن میرے پاس شکایت کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اُس پر خود حجت تمام کر لو۔یہ نہیں کہ مسجد میں وعظ کیا اور سمجھ لیا کہ ہمارا فرض ادا ہو گیا۔بلکہ جو لوگ نہیں آتے ان کے گھروں پر پہنچ کر انہیں سمجھایا جائے۔اُن کی بیویوں اور بچوں کو بھی سمجھایا جائے تا کہ اگر ان میں سے کوئی غلطی کرے تو دوسرا اُسے ہوشیار کر سکے۔اسی طرح چاہئے کہ علماء کو گھروں پر لے جایا جائے اور ان کے ذریعہ سمجھایا جاوے اور اگر ان دو صورتوں کے بعد بھی کسی شخص کی اصلاح نہ ہو تو پھر مجھے لکھو۔میں ایے