خطبات محمود (جلد 18) — Page 135
خطبات محمود 오 سال ۱۹۳۷ء دلاتا اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے تم ان کے بڑوں نے کو گالیاں مت دو کہ پھر یہ بغیر علم کے تمہارے خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔کیونکہ دشمنی کے ساتھ بعض دفعہ عقل بھی ماری جاتی ہے اور حملہ کرتے وقت صرف یہی احساس دل میں ہوتا ہے کہ دوسرے کے نقصان کی خاطر اگر اپنا نقصان بھی ہو جائے تو کوئی پرواہ نہیں۔بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے مکان کو آگ لگا دیتے ہیں تا کہ دوسرے کو مقدمہ میں پھنسا دیں۔کئی کی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو مار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نے مار دیا۔پس پاگلوں کو چھیڑنا خود پاگل پن ہے۔ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایک امام کے تابع کیا ہے اور امام خوب سمجھتا ہے کہ کہاں جواب دینا مناسب ہے اور کہاں نہیں۔ہر جگہ جواب دینے والے کی مثال گتے کی سی ہوتی ہے جو بغیر امتیاز کے بُھونکتا ہے۔ایک شریف انسان کو بھی جواب دیتا ہے لیکن وہ یہ دیکھتا ہے کہ کس کو جواب دیا جائے اور کیا جواب دیا جائے۔پس یہ امام کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سے دشمن اسلام ایسے ہیں جن کو جواب دیا جائے اور کون سے دشمن ایسے ہیں جن کے اعتراضات سننے کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ایسے گالیاں دینے والے لوگ موجود تھے۔لیکن حضرت کی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کو کبھی جواب نہیں دیا۔آخر جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا اور قادیان کے آریہ اور ہم کتاب لکھی۔تو دیکھو ان میں سے کون باقی رہا۔سب طاعون سے فنا ہو گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود جواب دیا۔اس سے تم لوگ سمجھ سکتے ہو کہ اگر تمہارا جواب خدا کے حکم سے ہو تو اس کے نتیجہ میں بھی وہ بات پیدا ہو جائے۔لیکن جب پیدا نہیں ہوتی تو معلوم ہوا کہ تمہارا جواب خدا کے حکم کے خلاف ہے ورنہ چاہئے تھا کہ خدا کے فرشتے تمہاری مدد کرتے اور اس کا جواب دیتے۔آسمان و زمین میں ایسے سامان پیدا ہو جاتے کہ وہ باتیں پوری ہو جائیں۔اگر تم ان کو ذلیل و بے شرم کہتے تو خدا کے فرشتے بھی ان الفاظ کو دُہراتے اور ان کے دوست بھی انہیں ایسا ہی کہتے۔لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہو ا کہ تمہارے سخت الفاظ محض الفاظ ہی ہیں ان میں حقائق نہیں۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم نے حقائق پیش کئے۔دشمنوں نے آپ کو ابو کہا۔رسول کریم ﷺ نے بھی اپنے دشمنوں کو ابتر کہا۔ان کی اولادیں موجود تھیں لیکن خدا نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ بعضوں کی اولا د کو لڑائیوں میں