خطبات محمود (جلد 18) — Page 134
خطبات محمود ۱۳۴ سال ۱۹۳۷ء اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ استہزاء کرنے والوں کو جواب نہ دینا ، ہم خود جواب دیں گے کیونکہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں کے مقابلہ کیلئے کافی ہیں جو حقارت اور تذلیل کے ذریعہ مخالفت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے مقابلہ میں تمہیں نہ ہمت ہے نہ طاقت نہ ہی دُنیوی ڈھنگ آتے ہیں۔ان لوگوں کی اپنی کوئی عزت نہیں ، وہ اس سے بڑھ کر گالیاں دیں گے اور بجائے اس کے کہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں دشمن بدگوئی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ایسے انسان کی زبان کو لگام نہ عزت دے سکتی ہے نہ رتبہ نہ شرافت۔کیونکہ یہ باتیں اسے میسر نہیں ہوتیں۔اگر یہ چیزیں اسے حاصل ہوں تو جواب کی اہمیت اُس کی سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ میری بھی عزت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے بعض دشمنوں میں سے ایسے ہی بعض لوگوں کو جواب دیا جو مثلاً پادری تھے اور اپنی قوم میں معزز تھے۔جبکہ وہ اسلام کے متعلق بدگوئی میں انتہا درجہ پر پہنچ گئے تا ان کو احساس ہو اور ان کی پوزیشن ان پر ظاہر ہو جائے۔چنانچہ ایسے لوگوں کے پاس ایک جماعت متفرق لوگوں کی گئی جنہوں نے ان کو کہا کہ اگر تم ایسی سختی نہ کرتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تم کو ایسی باتیں نہ منی پڑتیں۔جس سے ان کو شرم محسوس ہوئی اور وہ رُک گئے۔حتی کہ بعضوں نے عَلَى الْإِعْلَان کہنا شروع کیا کہ کسی مذہب کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کیلئے رسول کریم ﷺ کے خلاف دشمنوں کی کی بدگوئی بہت حد تک رُک گئی۔لیکن اگر آپ بعض اوباش عیسائیوں کے خلاف لکھتے تو کسی شریف نے اُن کو روکنا نہیں تھا نہ خود اُن کو اپنی عزت کا پاس ہوتا اور اِس طرح وہ گالیوں میں بڑھ جاتے۔ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کی نسبت فرمایا کہ ان کی گالیاں سن کر ان کو دعا دو۔خدا تعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ سے کہ جو تمسخر کرتے ہیں ان میں علم اور عقل نہیں ہوتی ان کے جواب کی تم میں ہمت نہیں ہم ان کو خود جواب دیں گے۔پس ایسے لوگوں کو مخاطب کرنا بے فائدہ ہے۔اب قادیان کے ہندو مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہے۔وہ قوم میں معزز نہیں۔وہ اگر گالیاں دیں تو وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ کے مطابق ایسے مشرکین سے اعراض کرنا چاہئے۔ایسے شخصوں کا مقابلہ کرنے والا در حقیقت پاگل ہے اور وہ خود زیادہ گالیاں دلاتا ہے بلکہ سلسلہ کا دشمن ہے کیونکہ آپ گالیاں