خطبات محمود (جلد 18) — Page 136
خطبات محمود ۱۳۶ سال ۱۹۳۷ء ختم کر دیا اور بعض رسول کریم ﷺ کی اولاد بن گئے اور ان لوگوں کی اولا د نہ رہے۔پنجابی میں اوتر بھی ابتر کو ہی کہتے ہیں۔پنجابی عورتیں بھی یہ گالیاں دیتی ہیں کہ تم او تر ہو جاؤ۔صلى الله لیکن وہ محض گالی ہوتی ہے۔ان عورتوں کی اس گالی سے کسی کے بچے نہیں مرتے۔لیکن رسول کریم میلہ نے جن دشمنوں کو او تر کہا تو ان کی اولادیں واقعہ میں فنا ہو گئیں۔پس معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کا ابتر کہنا گالی نہ تھی بلکہ واقعہ تھا جو پورا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض سخت اقوال سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ انہوں نے خدا کے حکم سے وہ الفاظ کہے اور زمین و آسمان ان کے ساتھ ہو گئے۔میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے بعض لوگ جب جواب دینے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور دشمن اس کے جواب میں اس سے بڑھ کر گالیاں دیتا ہے تو بے غیرت بن کر اپنے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ یا تو دشمن کا منہ بند کرتے یا گالی کا جواب دینے میں ابتداء نہ کرتے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کے اخلاق دوسروں سے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔پیغام حق پہنچانا اخلاق فاضلہ پیدا کر کے دین و دنیا کی بہتری کی تجاویز سوچنا نیکی اور علم کی وسعت دینا اور دنیا کی تکالیف دور کرنا ان کا مقصود ہو ، تا کہ جو خدا کا مقصد سلسلہ احمدیہ کے قیام سے ہے وہ پورا ہو۔یہ سنت ہے کہ جب خدا کا کام بندہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔حضرت ابوبکر ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔نبی کریم سے بھی اس جگہ تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دینے لگا۔آپ خاموش رہے۔جب اُس نے زیادہ بختی کی تو حضرت ابو بکر نے بھی اُس کو جواب دیا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تک آپ خاموش رہے، خدا کے فرشتے اسے جواب دیتے رہے۔لیکن جب آپ نے خود جواب دینا شروع کیا تو وہ چلے گئے۔ہے پس جس کام کو خدا نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہوتا ہے اگر بندہ اس میں دخل دے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔لیکن اگر بندہ صبر کرے اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ جلد یا بدیر اس کا بدلہ لے لے گا تو خدا اس کا بدلہ لے لیتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو مکہ میں ۱۳ سال تک اور پھر مدینہ میں جا کر بھی دشمن نے گالیاں دیں اور تنگ کیا۔نہ صرف ایک دن نہ صرف ایک ماہ نہ صرف ایک سال بلکہ اس وقت تک مخالفین آپ کو گالیاں دے رہے ہیں اور تورات کی پیشگوئی کے مطابق کہ حضرت اسماعیل جو رسول کریم ﷺ کے جد امجد تھے ، ان کے خلاف ان کے بھائیوں کی تلوار ہمیشہ اُٹھی رہے گی۔آپ کو لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے رہتے ہیں لیکن خدا نے اس کا علاج اپنے ذمہ لے رکھا