خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 108

خطبات محمود ۱۰۸ سال ۱۹۳۷ء پر بیٹھ کر نہایت ہی رعونت اور تکبر کے ساتھ یہ فقرے لکھتا ہے کہ کیسا ہی بیوقوفی کا وہ مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاؤ اور کہو اے اللہ ! اے اللہ !۔بھلا ان الفاظ کے دہرانے سے اس کا کیا فائدہ اور خدا کا کیا فائدہ؟ اُسی وقت اُس کی میز کے نیچے اُس کا بچہ اُسے بیوقوف بنا رہا اور اُس کی حماقت کی اُس پر ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔جب وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کہتا ہے ابا ابا۔اس طرح وہ جاہل اپنے علم کے گھمنڈ میں اسی فلسفہ کو ڈ کر رہا ہوتا ہے جس فلسفہ کو اُس کا بچہ اپنے عمل سے ثابت کر رہا ہوتا ہے۔مگر چونکہ محبت کا فلسفہ عقل کے فلسفہ سے بالکل جدا ہے اس لئے فلسفی اس راز سے آگاہ نہیں ہوتا۔غرض جب میں نے کہا کہ آؤ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں تو میں نے ایک رسمی چیز تمہارے سامنے پیش نہیں کی بلکہ جب میں نے کہا کہ دعائیں کرو تو یہ جانتے ہوئے کہا کہ تم میں سے بہت ہیں جو عرشِ الہی کو ہلا دینے والی دعائیں نہیں کرتے۔اور یہ جانتے ہوئے کہا ہے کہ دعا کوئی معمولی چیز نہیں۔پس میں نے رسما نہیں کہا، میں نے عادتا نہیں کہا مگر میں نے یہ بھی جانتے ہوئے کہا ہے کہ دعا کیلئے ہزار، دس ہزار یا ایک لاکھ آدمیوں کی ضرورت نہیں۔اگر لاکھوں کی جماعت میں سے دس آدمی بھی یسے نکل آئیں جن کے دل حقیقی دعا کرنے والے ہوں تو وہ زمین اور آسمان کو ہلانے کیلئے کافی ہیں۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ یتیم کی دعا عرش کو ہلا دیتی ہے اور رسول کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جماعت کی متحدہ دعا قبول کی جاتی ہے۔پس جب میں نے کہا کہ آؤ ہم دعا کریں تو اس وقت یہ دونوں باتیں مجھے نظر آ رہی تھیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میری مثال اُس شخص کی سی تھی جس کا دایاں بھی برکت والا ہو اور جس کا بایاں بھی برکت والا ہو۔میں سمجھتا تھا اگر مجھے ایک جماعت مل گئی تو رسول کریم ﷺ کا یہ قول بھی پورا ہو جائے گا کہ جماعت کی متحدہ دعا قبول کی جاتی ہے اور اگر مجھے کوئی ساتھی نہ ملا اور میں اکیلا رہا تو رسول کریم ﷺ کے اس دوسرے قول کی سچائی ثابت ہو جائے گی کہ یتیم کی دعا عرش کو ہلا دیتی ہے۔پس اگر مجھے جماعت حاصل ہو گئی تب بھی میرا مقصد پورا ہو گیا اور اگر میں اکیلا رہا تب بھی میرا مقصد مجھے حاصل ہو گیا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے ان دونوں حالتوں میں قبولیت دعا کی ہے بشارت دی ہوئی ہے۔جماعت ہونے کی صورت میں بھی اور یتیم ہونے کی صورت میں بھی۔اور یتیم سے صرف وہی مراد نہیں جس کے ماں باپ نہ ہوں بلکہ جو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اکیلا رہ جائے وہ یتیم ہے اور جو اپنے ساتھی پالے وہ جماعت ہے۔ہمارے خدا نے بھی قرآن مجید میں اس بات کا اظہار فرمایا ہے الله