خطبات محمود (جلد 18) — Page 109
خطبات محمود 1+9 سال ۱۹۳۷ء چنانچہ ایک نبی کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ امہ تھا گے۔یعنی ایک جماعت اس کو حاصل تھی اور ایک کی دوسرے نبی کے متعلق فرمایا کہ وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا تو سب منتشر ہو جاتے اور وہ نبی اکیلا کی رہ جاتا۔گویا ایک نبی وہ تھا جس نے جماعت بن کر خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کی اور دوسرا وہ تھا جس نے یتیم بن کر خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل کی۔یہ مت خیال کرو کہ تم اِس وقت امن کی حالت میں ہو اور تمہیں دشمن کی طرف سے کسی حملے کا خوف نہیں۔اپنے آپ کو امن کی حالت میں کہنا اور دشمن کے حملہ سے بے خوف ہو جانا حماقت ہوتی ہے۔کیونکہ بسا اوقات جب انسان یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مصیبت ٹل گئی وہ پہلے سے بھی زیادہ مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے۔گزشتہ سال حبشہ اور اٹلی والوں کے درمیان جو جنگ ہوئی اور جس میں حبشہ نے شکست کھائی اس کے متعلق جن محققین نے اس نقطہ نگاہ سے غور کیا ہے کہ حبشہ والے کیوں ہارے؟ حالانکہ ابتداء میں انہوں نے اٹلی کو خطر ناک شکست دی تھی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حبشہ والے ہار گئے کیونکہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ہم جیت گئے ہیں۔گویا جب انہوں نے شروع میں اٹلی کی فوجوں کو شکست دے دی تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اٹلی نے حبشہ کو غافل یا کر پھر حملہ کر دیا اور اُسے شکست دے دی۔میں دیکھتا ہوں یہی حال اس وقت ہماری جماعت کے افراد کا ہے۔جب دشمن کا حملہ تھوڑی دیر کیلئے ہٹ جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں اب ہم بچ گئے۔میں پوچھتا ہوں تم کیونکر سمجھتے ہو کہ اب ہم بچ گئے۔کیا احرار سے ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے یا کیا گورنمنٹ سے ہمارا تصفیہ ہو گیا ہے؟ اگر دشمن اس وقت خاموش ہوگیا ہے تو اُس کی خاموشی کے یہ معنے کس طرح ہو گئے کہ ہماری لڑائی ختم ہو گئی ہے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ انتظار کر رہا ہو کہ تم سو جاؤ اور مطمئن ہو جاؤ تو پھر وہ تم پر حملہ کرے۔پس جب تک ہماری گورنمنٹ سے با قاعدہ صلح نہیں ہو جاتی یا جب تک احرار سے ہمارا ایسا تصفیہ نہیں ہو جاتا جس کے بعد احرار کے لئے ہمارے مقابلہ میں سر اُٹھانا ناممکن ہو جائے ، اُس وقت تک اگر ہماری جماعت میں سے ایک آدمی بھی خاموش ہو کر بیٹھ رہتا ہے تو اس کے معنی سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ احمق اور بیوقوف ہے۔یا د رکھو مومن کی کے دل پر جو زخم لگتے ہیں وہ کبھی مندمل نہیں ہوتے اور اُس وقت تک ہرے رہتے ہیں جب تک دوسرے کی زخموں کے لگنے کا احتمال باقی رہتا ہے۔حضرت نوح کی لائی ہوئی تعلیم دنیا سے کیوں مٹ گئی ؟ اس لئے ہے