خطبات محمود (جلد 18) — Page 107
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء مانگا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے کہا جائے گا کہ اب کیوں کھڑے ہو، ہمارے دربار سے چلے جاؤ اور چونکہ اس کی اصل غرض مانگنا نہیں بلکہ اپنے محبوب کے دربار میں کھڑا رہنا ہوتی ہے اس لئے وہ مانگتا ہے اور مانگتا چلا جاتا ہے۔اس لئے نہیں کہ اسے ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سائل بنا رہے اور اسے یہ نہ کہا جائے کہ اب چلے جاؤ، تمہاری ضرورت پوری ہو گئی۔پس ہر وقت ہی وہ کوئی نہ کوئی ہے ضرورت پیش کرتا رہتا ہے تا ہر وقت اسے اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر کھڑے رہنے کا حق حاصل رہے۔یہ حقیقی محبت کا ایک نظارہ ہوتا ہے مگر لوگ اس کو فلسفیانہ رنگ میں حل کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ ایک جنس کو دوسری جنس سے نا پا نہیں جاسکتا۔تم ہوا اور پانی کو اگر ترازو میں تو لنا چاہو تو یہ تل نہیں سکیں گے۔اسی طرح عشق اور محبت کے جذبات کو تم فلسفہ کے ترازو میں نہیں تول سکتے اور اگر تو لو گے تو یہ اس تر از و نکل بھاگیں گے۔لیکن ہوا کو اگر ان آلات سے تو لو جو سائنس نے گیسوں کے متعلق ایجاد کئے ہیں تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ان چیزوں کا بھی وزن ہے اور ان میں بھی طاقت اور قوت ہے حتی کہ سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جب کسی چیز میں بالکل خلاء کر دیا جائے تو ہوا کا بیرونی دباؤ اُس چیز کو توڑ دیتا ہے۔گویا جس چیز کو ہم خالی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ خالی نہیں ہوتی بلکہ اُس میں جو ہوا ہوتی ہے وہ ہمارے سامانوں کی کی حفاظت کر رہی ہوتی ہے لیکن ہماری ظاہری نظر اس کو خالی کہہ دیتی ہے۔دعا ایک ایسا حربہ ہے جس کا مقابلہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔اور دعا اظہارِ عشق کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔شاید تم میں سے وہ لوگ جو بڑی عمر کے ہیں وہ اپنے بچپن کی باتیں کھول چکے ہوں لیکن مجھے تو ابھی تک بہت سی باتیں یاد ہیں۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے تھے " آؤ اماں اماں کر لیے۔آؤ ابا ابا کریے ( پنجابی )۔اس کا مطلب کیا ہوتا تھا ؟ شاید ایک فلسفی یہ نظارہ دیکھ کر کہے کہ بچے کیسے پاگل ہیں کہ ماں باپ کے پاس رہتے ہوئے اس قسم کے فقرے کہتے ہیں۔مگر حقیقتا وہ پاگل پن کا اظہار نہیں بلکہ اپنے بڑوں کو یہ نصیحت کرنا ہے کہ دیکھو ہمیں اپنی ماں سے محبت ہے اور ہم کہتے ہیں ” آؤ اماں اماں کریئے۔ہمیں اپنے باپ سے محبت ہے اور ہم کہتے ہیں ' آؤ ابا ابا کریے۔پھر جبکہ تمہیں دعویٰ ہے کہ تم می اپنے باپ اور اپنی ماں سے بہت زیادہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم اس کو یاد کرو اور اُس کے اور زیادہ قریب ہونے کی کوشش کرو۔جس وقت ایک فلسفی اپنے سامنے میز لگائے گرسی