خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 85

خطبات محمود ۸۵ سال ۱۹۳۷ء اپنے پاس سے وہ طاقت بخش جس سے ہم اسلام اور احمدیت کو تمام دنیا پر غالب کر سکیں اور ہمیں اس کی ہے اشاعت کی توفیق دے۔ہماری زبانوں میں اثر اور ہمارے دماغوں میں روشنی پیدا کرتا کہ ہم وہی باتیں کہیں اور سوچیں اور سمجھیں جن سے دنیا میں تیرا جلال ظاہر ہو۔ہمارے دلوں میں جذب پیدا کرتا کہ ہم ان تیری محبت اور پیار کو بھی جذب کریں اور تیرے ان بندوں کو بھی تیرے دین کی طرف کھینچیں جو تجھ سے برگشتہ ہو کر دنیا میں بھٹک رہے ہیں۔اے خدا جس طرح مقنا طیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، اسی طرح مقناطیس ہم تیری محبت اور تیرے بندوں کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوں اور ہم وہ نقطہ مرکزی ہو جائیں جس پر خدا اور بندہ آپس میں مل جاتے ہیں اور ہمارا دل وہ گھر بن جائے جس میں خدا اور انسان کی محبت جاگزیں ہو جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جو ہم پر سابقہ سالوں میں فضل نازل ہوئے ان کا شکر ادا ہو نا گو محال ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کے معمولی شکر کو بھی قبول فرماتا اور اس کے عوض اپنی اور زیادہ برکات نازل کرتا ہے، اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم سات روزے اس کے احسانات کے شکر میں رکھیں۔گویا ی اپریل سے لے کر اکتوبر تک چودہ روزے ہماری جماعت کے احباب کو رکھنے چاہئیں۔چونکہ میری یہ تحریک باہر دیر سے پہنچ سکے گی اس لئے اُن جماعتوں کیلئے جن تک یہ تحریر دیر سے پہنچے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جس جس ہفتہ میں بھی انہیں اطلاع پہنچے ، اس ہفتہ کے پہلے پیر کے دن وہ پیر کا روزہ رکھ لیں اور دوسرا روزہ مہینہ کے آخری ہفتہ کی جمعرات کے دن رکھیں اور اگر بعض ایسے علاقے کی ہوں جہاں تحریک اس سے بھی دیر میں پہنچے تو وہ ایک روزہ تو اپریل کے آخری ہفتہ کی جمعرات کو رکھیں اور کی پھر اگلے مہینہ میں دو پیروں کے روزے رکھ لیں۔ایک پہلے ہفتہ کے پیر کے دن اور ایک درمیانی ہفتہ کے پیر کے دن اور پھر چوتھا روزہ حسب معمول مہینہ کے آخری ہفتہ کی جمعرات کو رکھیں۔لیکن اگر بعض لوگ ہوتی ایسے ہوں کہ اُن کے ہاتھ سے اپریل کے آخری ہفتہ کی جمعرات کا روزہ بھی نکل جائے اور بعد میں انہیں اطلاع ہو تو وہ مئی کے مہینہ کے پہلے دو ہفتوں میں ہر پیر کے دن اور آخری دو ہفتوں میں ہر جمعرات کے دن روزہ رکھ لیں۔اور اگر کوئی جماعت ایسی ہو کہ جسے دوسرے مہینہ میں بھی اطلاع نہ پہنچے تو وہ ان روزوں کو تیسرے مہینہ میں ڈال لے۔بہر حال اکتوبر ہمارے روزوں کا آخری مہینہ ہوگا اور اس مہینہ تک ہمیں اپنے چودہ روزے ختم کر دینے چاہئیں۔اس کوشش کے ساتھ کہ سات روزے ہم پیر کے دن رکھیں اور سات جمعرات کے دن۔اس کے بعد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مئی کے دوسرے ہفتہ میں جو