خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 86

خطبات محمود ۸۶ سال ۱۹۳۷ء اتوار 9 تاریخ کو ہے۔اُس دن تمام جماعتیں اپنے اپنے مقام پر تحریک جدید کے متعلق جلسے منعقد کریں ، اور کوشش کریں کہ ان جلسوں سے پہلے پہلے تحریک جدید کے چندوں کا معتد بہ حصہ ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے ادا ہو جائے۔مجھے افسوس ہے کہ اس سال تحریک جدید کا چندہ جمع کرنے میں بہت سستی دکھائی گئی ہے۔گو پچھلے سال سے اس سال اس وقت تک دو تین ہزار کی زیادتی ہے۔چنانچہ پچھلے سال اس وقت تک غالباً ۳۱ ہزار روپیہ آیا تھا اور اس سال ۳۴ ہزار آچکا ہے۔مگر دراصل حساب کی رو سے چالیس ہزار سے اوپر آجانا چاہئے تھا۔بلکہ اس لئے کہ میں نے خاص طور پر یہ تحریک کی تھی کہ اس سال تحریک جدید کے چندے کے مصرف ایسے ہیں کہ پہلی ششماہی پر اس کا زیادہ اثر پڑے گا اور اکثر جماعتوں اور افراد نے یہ اقرار بھی کیا تھا کہ وہ اپریل مئی تک اپنے اپنے وعدوں کی رقوم ادا کر دیں گے اس لئے دراصل موعودہ رقوم کے لحاظ سے اس وقت تک ساٹھ ہزار روپیہ آ جانا چاہئے تھا۔میں جیسا کہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں بیرونی تبلیغ اور وقتی تبلیغ کے اخراجات کے سلسلہ میں جو کمی صدرانجمن احمدیہ کے بجٹ میں ہوتی ہے، کیونکہ عملہ کے کثیر خرچ کی وجہ سے سائز کے لئے نسبتا کم رقم بچتی ہے۔اس کمی کو میں مستقل جائدادوں کے ذریعہ پورا کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ تحریک جدید کی بہت سی جائدادیں میں نے صدر انجمن احمدیہ کے نام پر خرید کی ہیں۔ان جائدادوں کی قیمتوں کے لئے بھی ہمیں بہت بڑی رقوم کی ضرورت ہوگی۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنہوں نے اس تحریک میں کسی رقم می کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے وہ اپنے وعدوں کو خصوصیت سے جلد پورا کریں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ صدر انجمن احمدیہ کے مستقل چندوں میں سستی کر کے اس طرف توجہ کی جائے۔وہ چندے واجب ہیں اور تحریک جدید کا چندہ نفلی ہے اور گونفل کے پورا کرنے کے متعلق بھی انسان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو بوجھ تم نے اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے نفس کیلئے برداشت کیا تھا اُس کو کیوں نہیں اُٹھایا۔لیکن بہر حال اس چندے کی وجہ سے صدر انجمن احمدیہ کے چندوں میں سستی نہیں ہونی چاہئے۔ان جلسوں میں جو تحریک جدید کے متعلق منعقد کئے جائیں گے، تحریک جدید کے تمام شعبوں اور اس کے تمام مطالبات پر تقریریں کی جائیں اور دوستوں میں ہوشیاری اور بیداری پیدا کی جائے۔انہیں سادہ زندگی کے متعلق بھی توجہ دلائی جائے۔شادی بیاہ کے اخراجات میں کفایت کرنے کی طرف