خطبات محمود (جلد 18) — Page 75
خطبات محمود ۷۵ سال ۱۹۳۷ء ہے اگر ان کو چالیس آدمی مل جاتے تو ممکن ہے اُسی وقت خلافت کا ڈھونگ رچاتے۔لیکن اتنے آدمی بھی ہ ملے اور ادھر عابد علی شاہ صاحب کو دوسرے دن رؤیا ہوا اور انہوں نے آکر میری بیعت کرلی واللَّهُ أَعْلَمُ۔یہ ان کی کوئی خیالی بات تھی یا اللہ تعالیٰ کا انہیں ہدایت دینے کا منشاء تھا۔انہوں نے دوسرے روز آکر بیعت کر لی۔لیکن پہلے چونکہ انہوں نے خلیفہ بننے کیلئے رضامندی کا اظہار کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی انہیں بڑی سخت سزا دی۔بیعت کے کچھ عرصہ بعد وہ کہنے لگے کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ منتخب کیا ہے۔میں نے کہا کہ آپ کا خدا بھی عجیب ہے کبھی تو آپ کو خلیفہ مقرر کرتا ہے اور کبھی بیعت کرنے کا حکم دیتا ہے۔مگر وہ آہستہ آہستہ اس دعوی میں بڑھتے گئے اور آخر جماعت سے الگ ہو کر بیعت لینے لگ گئے۔چند سالوں کے بعد جب طاعون پھیلی تو انہوں نے کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میرا گھر طاعون سے محفوظ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی الہام تھا۔مگر دیکھو دونوں میں کتنا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کے شائع ہونے کے بعد پانچ سات سال تک قادیان میں طاعون پھیلتی رہی بلکہ اس محلہ میں جس میں آپ کا گھر تھا پھیلتی رہی اور ان گھروں میں پھیلتی رہی جو آپ کے مکان کے دائیں بائیں واقع تھے اور پھر معمولی حالت میں نہیں بلکہ ایسی شدید تھی کہ تین تین، چار چار اموات ان گھروں میں ہوئیں مگر آپ کے مکان میں ایک چو ہا تک نہ مرا۔لیکن سید عابد علی صاحب کے الہام کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کے گھر میں آنے والے بعض لوگ طاعون سے ہلاک ہوئے بلکہ وہ خود بھی اور اُن کی بیوی بھی اسی سال طاعون سے فوت ہو گئے۔بیشک و ظاہری نماز روزہ کے پابند اور صوفی منش آدمی تھے مگر بعض لوگوں کے اندر ایک مخفی رنگ کا کبر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کو شیطان نیکی کی راہیں دکھا کر ہی قابو کرتا ہے اور بعد میں خدا تعالیٰ وه کا سلوک یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ الہام شیطانی تھا یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان کا تو یہ حال ہوا۔ادھر وہ لوگ جو اپنے آپ کو جماعت کا لیڈر اور رئیس سمجھتے تھے اور جن میں سے ایک نے اس سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ اس پر آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہو گا مگر آج ہم دیکھ رہے ہی کہ دس سال گزرے پھر دس سال گزرے اور پھر تیسرے دس سالوں میں سے بھی تین سال گزر گئے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس عمارت پر کسی عیسائی یا آریہ کا قبضہ نہیں بلکہ عیسائیوں اور آریوں کا مقابلہ کرنے والے احمدیوں کا ہی قبضہ ہے۔اور جن کی