خطبات محمود (جلد 18) — Page 74
خطبات محمود ۷۴ سال ۱۹۳۷ء بہت گھبراہٹ اور شور تھا اور سارا مجمع مجھے نظر بھی نہ آتا تھا مولوی محمد علی صاحب نے کچھ کہنا چاہا مگر لوگوں نے اُن کو روک دیا۔میں نے بعد میں سنا کہ انہوں نے یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی خلیفہ ہو مگر ان لوگوں نے جو اُن کے قریب بیٹھے تھے ان سے کہہ دیا کہ ہم آپ کی بات سنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔اس پر مولوی صاحب مجمع سے اُٹھ کر اپنی کوٹھی میں جہاں اب جامعہ احمد یہ ہے چلے گئے اور ی ان کے جانے کے بعد تمام جماعت کا رحجان میری طرف ہو گیا۔حالانکہ جیسا مجھے بعض دوستوں نے بعد میں بتایا اُس وقت تک وہ اس کیلئے تیار تھے کہ مولوی صاحب کی بیعت کر لیں۔خدا کی قدرت ہے مجھے بیعت کے الفاظ بھی یاد نہ تھے اور جب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تو چونکہ میں چاہتا تھا کہ ابھی ٹھہر جائیں شاید صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔میں نے کہا کہ مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں ہیں لیکن مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی وہاں موجود تھے۔وہ اُٹھ کر میرے قریب آگئے اور کہا کہ مجھے کی بیعت کے الفاظ یاد ہیں میں کہتا جاتا ہوں آپ دُہراتے جائیں۔میں نے اس پر بھی کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی لیکن لوگوں نے شور مچادیا کہ فوراً بیعت لی جائے۔چونکہ میرا عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے، میں نے سمجھ لیا کہ اب یہ خدائی فیصلہ ہے اور میں نے بیعت لینی شروع کر دی اور اُس وقت بیعت لی جبکہ جماعت پراگندگی کی حالت میں تھی ، جبکہ تمام لیڈ ر مخالف تھے اور جب کہ وہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر یہ طریق اختیار کیا گیا تو ہم اُسے کچلنے کیلئے تمام ذرائع اختیار کریں گے۔ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم جنہوں نے قرآن کریم کے پہلے پارہ کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا وہ پہلے ان لوگوں کے ساتھ تھے مگر بعد میں بیعت میں شامل ہو گئے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہاں سے جا کر مولوی صدر دین صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس پر چالیس مومن اتفاق کریں وہ بیعت لے سکتا ہے۔(حالانکہ اس سے مراد جماعت میں شامل کرنے کی بیعت ہے ( اطاعت کی نہیں ) ہم یہ کیوں نہ کریں کہ چالیس لوگوں کو جمع کر کے سید عابد علی شاہ صاحب کو خلیفہ بنادیں تا لوگوں کی توجہ ادھر سے ہٹ جائے۔عابد علی شاہ صاحب کو الہام الہی کا دعوی تھا۔اُن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی عہدہ ملنے والا ہے چنانچہ انہوں نے عابد علی شاہ صاحب کو منوا بھی لیا لیکن لالٹین لے کر وہ ساری رات در بدر پھرتے رہے مگر انہیں چالیس آدمی بھی میسر نہ آئے۔حالانکہ آبادی بہت کافی تھی اور ہزاروں اشخاص باہر سے بھی آئے ہوئے تھے۔خدا کی قدرت