خطبات محمود (جلد 18) — Page 76
خطبات محمود ۷۶ سال ۱۹۳۷ء احمدیوں کا قبضہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھتے اور طاقتور ہوتے جا رہے ہیں اور وہ شخص جس نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرنا چاہا تھا کہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اس سال ان کے اخبار میں اعلان کیا جا رہا ہے کہ ہم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک کوئی واجب الا طاعت خلیفہ مقرر نہ کریں اور ہمیں چاہئے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کو ایسا مان لیں۔جس شخص کو میرے مقابلہ پر کھڑا کی کرنا چاہتے تھے وہ طاعون کا مارا ہوا اپنے گاؤں میں پڑا ہے اور جولوگ میرے مقابل پر یہ کہہ رہے تھے کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں وہ آج نا کام ہو کر اس مسئلہ کی طرف آرہے ہیں اور ۲۳ سال بعد پھر اسی نکتہ کی طرف کوٹتے ہیں۔یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ صدر انجمن کا پریذیڈنٹ بھی ایسا ہونا چاہئے جو کم سے کم چالیس سال کی عمر کا ہو کیونکہ اس سے کم عمر میں عقل اور تجربہ پختہ نہیں ہو سکتا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ۲۵ سال عمر والے کو تو یہ نکتہ اسی وقت معلوم ہو گیا اور چالیس سال والے کو آج جبکہ وہ پینسٹھ سال کو پہنچ چکا ہے کی معلوم ہوا۔مگر کیا وہ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کے بنائے ہوئے خلیفے بھی خلیفے ہوتے ہیں۔ہمارا اور ان کا ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور اب شاید اللہ تعالیٰ انہیں یہ دکھانا چاہتا ہے کہ خلیفے وہی بناتا ہے۔انسانوں کے بنانے سے کوئی واجب الاطاعت خلیفہ نہیں بن سکتا۔الله دیکھو جماعت کتنے خطرات میں سے گزر رہی ہے اور غور کرو ان کو دبانا کس انسان کی طاقت میں تھا۔کم سے کم وہ انسان تو نہیں دبا سکتا تھا جس کے متعلق دوست دشمن سب کی یہی رائے تھی کہ یہ ان نا تجربہ کار نو جوان ہے۔پھر سوچو کہ اس قدر شدید خطرات کے باوجود کون جماعت کو ترقی پر لے گیا ؟ کیا وہی خدا نہیں جس نے کہا ہوا ہے کہ خلیفے ہم بناتے ہیں؟ یہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ کام ایسے ہی لوگوں سے لیتا ہے جنہیں دنیا نالائق سمجھتی ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کام کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔نہ آپ سے پہلے کوئی ایسا تھا نہ اب تک ہوا ہے اور نہ آئندہ ایسا ہوگا۔مگر دنیا نے آپ کی جوی قیمت سمجھی تھی وہ پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ بتا دی تھی یعنی وہ پتھر جسے معماروں نے رد کر دیا۔بائبل میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ جو لوگ اپنے آپ کو کارخانہ عالم کے انجینئر (ARCHITECT) سمجھتے ہیں اور دنیا کی عام اصلاح کے مدعی ہیں جب محمد رسول اللہ ﷺ کا جو ہر اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ ہمارے مطلب کا نہیں، مگر دنیا کے قیام اور زینت کا موجب وہی بنا۔پھر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کام لیا۔آج دشمن کہتے ہیں کہ آپ پاگل تھے مگر خدا کی