خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 667

خطبات محمود ۶۶۷ سال ۱۹۳۷ء میری فطرت خدا تعالیٰ نے نیک بنائی ہے اور مجھے اس نے اس لئے بنایا ہے کہ اس کا وصال مجھے حاصل ہو تو فطرت کو خدا تعالیٰ نے ایسا طاقتور بنایا ہے کہ اس یقین کے بعد وہ شیطان سے شکست نہیں کھا سکتا۔ اور جو شخص شیطان سے نہیں ہارتا رتا جنت اس کا کا ورثہ ہوتا اور جنت کا وہ ٹھیکیدار ہو جاتا ہے ۔ ہو جاتا ہے ۔ پھر جب اسے اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی بھی اصلاح ہو سکتی ہے تو وہ اس یقین کے بعد دوسروں کیلئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے بھی تیار ہو جاتا ہے اور ہر رنگ میں انہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش اور سعی کرتا ہے۔ کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ لوگ بچ جائیں گے ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی گھر کو آگ لگی ہوئی ہو اور چاروں طرف سے اس کے شعلے نکل رہے ہوں ۔ اور انسان یہ سمجھ لے کہ اب اس گھر کے آدمیوں میں سے ہم کسی کو نکال نہیں سکتے ۔ تو وہ واقعہ میں کسی آدمی کو نہیں نکال سکتا ۔ لیکن جب کوئی شخص ایک عزم اور ارادہ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں کوشش تو کروں ممکن ہے بعض لوگوں کو میں نکال لاؤں تو وہ آگ کے اندر داخل ہو کر بعض لوگوں کو واقعہ میں بچا لیتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی کو یقین ہو کہ لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے اور پھر وہ اپنی کوششیں جاری رکھتا ہے تو اس کی تبلیغ بہت زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یقین سے خالی دل لے کر جاتا ہے اور لوگوں کو سمجھاتا ہے تو اس کی تبلیغ میں کیا اثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگ گو تبلیغ کیلئے جاتے ہیں مگر اُن کا دل یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لوگوں نے تو ماننا ہی نہیں ۔ اس طرح جب وہ لوگوں پر بدظنی کرتے ہیں اور اپنے خدا پر بھی بدظنی کرتے ہیں تو ان کی تبلیغ میں کوئی برکت نہیں رہتی اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس آجاتے ہیں ۔ آخر کیا فرق ہے انبیاء کی تبلیغ اور دوسرے لوگوں کی تبلیغ میں ۔ کیا فرق ہے اولیاء کی تبلیغ اور دوسرے لوگوں کی تبلیغ میں ۔ کیا فرق ہے مومنوں کی تبلیغ اور دوسرے لوگوں کی تبلیغ میں ۔ فرق یہی ہے کہ مومن جب بولتا ہے تو اس یقین اور وثوق سے بولتا ہے کہ میں دنیا کو ہلا دوں گا۔ میرے سامنے اگر پہاڑ بھی آئے تو میں اسے اُڑا دوں گا ۔ اور جو مخالف میرے سامنے ہے اس کی مجال نہیں کہ میرے ہاتھ سے جاسکے ۔ وہ میرا شکار ہے جو کہیں اور نہیں جا سکتا۔ میں اس کی بدی کا چولہ پھاڑ دوں گا اور اس کی حقیقی نیکی جو اس کی فطرت میں مرکوز ہے نکال کر باہر رکھ دوں گا۔ لیکن دوسرا جب تبلیغ کرتا ہے تو دل میں یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ میں یونہی تبلیغ کر رہا ہوں ورنہ اس نے ماننا تو ہے نہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے قلب کا اثر دوسرے شخص کے قلب پر بھی جا پڑتا ہے اور وہ بھی کہتا ہے کہ یہ بے شک تبلیغ کرلے میں نے اس کی بات نہیں مانتی۔ لیکن دل کے اندر سے نکلی ہوئی بات