خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 668

خطبات محمود ۶۶۸ سال ۱۹۳۷ء دوسرے کے دل پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی اور انسان خواہ کس قدر مخالف ہو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اس میں انبیاء اور اولیاء کی کوئی تخصیص نہیں۔عام مومن پر بھی جب اس قسم کا وقت آتا ہے تو اس کے ذریعہ قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی ایک مثال ہے جو اس امر کو خوب واضح کر دیتی ہے۔حضرت عمر اسلام کے سخت دشمن تھے۔اتنے دشمن کہ وہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے گھر سے چل پڑے۔مگر ابھی رستہ میں ہی تھے کہ کسی نے ان سے پوچھا عمر کہا جا ر ہے ہو ؟ وہ کہنے لگے محمد (ﷺ) کا کام تمام کرنے چلا ہوں۔اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ وہ کہنے لگا اعتبار نہیں تو گھر جا کر دیکھ لو۔چنانچہ وہ اپنے بہنوئی کے گھر گئے ، دیکھا تو دروازہ بند تھا اور اندر انہوں نے ایک صحابی کو بلایا ہوا تھا جس سے وہ قرآن مجید سن رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے دستک دی، انہوں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر اندر داخل ہو گئے اور پوچھا کہ بتاؤ کیا ہو رہا تھا؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں۔وہ کہنے لگے کہ کچھ کیوں نہیں کوئی بات ضرورت ہے اور میں نے سنا ہے تم مسلمان ہو چکے ہو۔یہ کہتے ہوئے وہ غصہ میں آگے بڑھے تا کہ اپنے بہنوئی کو ماریں۔جب وہ مارنے لگے تو ان کی بہن اپنے خاوند کی محبت کے جوش میں ان کو بچانے کیلئے بیچ میں آگئیں۔اہل عرب کی یہ فطرت نہیں تھی کہ وہ عورت پر ہاتھ اٹھا ئیں۔مگر حضرت عمرؓ چونکہ اپنے بہنوئی پر ہاتھ اُٹھا چکے تھے اس لئے روک نہ سکے اور ضرب مار دی جو بجائے اپنے بہنوئی کے ان کی بہن کو جا لگی اور ان کے جسم سے خون ٹپکنے لگا۔یہ دیکھ کر ان کی بہن جوش میں آگئیں اور انہوں نے کہا عمر ! پھر ہم مسلمان ہو چکے ہیں تم سے جو کچھ ہو سکتا ہے کر لو۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے ڈر کی وجہ سے مسلمان عام طور پر ان سے کھل کر گفتگو نہیں کرتے تھے۔مگر اُس دن جب انہوں نے یقین اور وثوق سے بھرے ہوئے یہ الفاظ سنے کہ تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور اب اسلام کو ہم ہرگز چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔تو گو یہ الفاظ ایک کمز ور فطرت عورت کے منہ سے نکلے تھے جو عام طور پر دوسرے کی حفاظت چاہتی ہے مگر جب اس عورت نے یہ کہ دیا کہ میں عورت ہو کر یہ کہتی ہوں کہ اب ہم اسلام پر قائم ہو چکے ہیں تم نے جو کرنا ہے کر لو تو یہ یقین اور وثوق ان کے دل کو کھا گیا اور انہوں نے کہا اچھا مجھے بھی بتاؤ کہ تم کیا سن رہے تھے۔انہوں نے کہا تم قسم کھاؤ کہ اس کی بے ادبی نہیں کرو گے۔انہوں نے یقین دلایا کہ میں بے ادبی