خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 666 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 666

خطبات محمود ۶۶۶ سال ۱۹۳۷ء کالج کا پروفیسر تھا۔میں نے اُس سے پوچھا بتاؤ اب تمہاری کیا حالت ہے؟ وہ کہنے لگا مذہبی آدمی تو میں ہوں نہیں لیکن میری اب وہ پہلی حالت نہیں رہی۔چنانچہ طالب علموں سے پوچھ لیجئے جب خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کوئی اعتراض کرتے ہیں تو میں انہیں کہتا کہ میں بھی ان راستوں سے گزر چکا ہوں۔مگر میرا تجربہ یہی ہے کہ مذہب کو تسلیم کئے بغیر اطمینانِ قلب حاصل نہیں ہوتا۔اب دیکھو اُس کی یا تو وہ حالت تھی اور یا یہ حالت ہوگئی۔مگر اس کے اندر یہ تغیر کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى فِطْرَةِ الْاَسْلَام کے مطابق ایک فطرتی نیکی اس کے اندر موجود تھی جو بعد میں ظاہر ہوگئی۔گو یا فطرت پر پہلے ایک پالش چڑھا ہوا تھا مگر جب وہ پالش اُتر گیا تو فطرت اپنی اصل حالت رونما ہوگئی۔تو گناہ اور بدی اور افتراء اور جھوٹ یہ ساری چیزیں ملاقع ہیں ورنہ اندرونی طور پر تمام انسان نیک ہوتے ہیں۔جب تک ہم یہ نکتہ نہ سمجھ لیں گلی طور پر ہم اصلاح عالم نہیں کر سکتے۔یہ تو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی بداعمالی کی وجہ سے اُس کے متعلق یہ فیصلہ کر دے کہ وہ جہنمی ہے مگر ایسی سزا بھی عارضی ہوگی ،مستقل نہیں ہوگی۔اگر یہ سزا مستقل ہوتی تو جہنم بھی مستقل ہوتا۔مگر خدا تعالیٰ نے جہنم کو مستقل نہیں رکھا بلکہ جنت کو مستقل رکھا ہے اور اس طرح ہمیں بتایا ہے کہ نیکی مستقل چیز ہے اور بدی عارضی چیز۔جب ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم ایسی اعلیٰ ملی ہے تو یہ کتنے بڑے تعجب کی بات ہوگی۔اگر ی وہی قوم جس کے سپر د اصلاح عالم کا کام ہو تھک جائے اور کہے کہ لوگ اس کی بات نہیں مانتے۔یا اس کی لئے ہمت ہار کر بیٹھ جائے کہ وہ نیکی حاصل نہیں کر سکتی۔یا اگر اس نے خود نیکی حاصل کر لی ہے تو وہ دوسروں کے متعلق یہ خیال کرلے کہ وہ نیک نہیں بن سکتے۔وہ کیوں یہ خیال نہیں کرتی کہ اور لوگ خدا تعالیٰ کے سوتیلے بیٹے نہیں۔وہ بھی اس کی مخلوق ہیں اور ان سے بھی خدا تعالیٰ محبت اور پیار رکھتا ہے۔اگر وہ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں تو یقیناً ایک وقت ایسا آ جائے گا جبکہ وہ ہدایت پا جائیں گے۔تو مومن کو اپنی فطرت کی نیکی پر پورا بھروسہ اور یقین رکھنا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے کہا مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ ل بعض لوگ اسے حدیث قرار دیتے ہیں۔بعض اسے آثار میں سے قرار دیتے ہیں لیکن جو بھی ہو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس میں ایک نکتۂ معرفت بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس سے وحدت وجود کا استدلال کرتے ہیں مگر یہ بالکل غلط ہے۔اس میں جو کچھ بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ی انسان اپنی فطرت کو سمجھ لے تو اسے خدا ضرور مل جاتا ہے۔جب ایک انسان اس یقین پر قائم ہو جائے کہ