خطبات محمود (جلد 18) — Page 642
خطبات محمود ۶۴۲ سال ۱۹۳۷ء سخاوت کا نہیں بلکہ دوسرے کے حق کا سال تھا۔جب آپ قضا فر ماتے تو یہی نظر آتا تھا کہ آپ بہترین قاضی ہیں اور ساری توجہ آپ کی اسی کام کی طرف ہے۔لیکن جب تدریس فرماتے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا سارا میلان اسی کی طرف ہے اور آپ بہترین مدرس ہیں۔پھر جب آپ تربیت فرماتے تو ی یہی معلوم ہوتا کہ آپ بالکل ایسے ہیں جیسے تربیت کرنے والے اور بورڈنگوں وغیرہ کے افسر ہوتے ہیں اور گویا آپ صرف مربی ہیں۔پھر جب مجلس میں بیٹھتے تو صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص یہی خیال کرتا تھا کہ آپ میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور یہ نظر آتا تھا کہ آپکو ان لوگوں کے سوا اور کسی کا بلکہ اپنے گھر والوں کا بھی کوئی خیال نہیں۔لیکن جو نبی گھر میں قدم رکھتے آپ کی بیویاں خیال کرتیں کہ آپ سے زیادہ محبت کرنے والا خاوند دنیا بھر میں نہیں ہوگا۔آپ جب بچوں سے ملتے تو کی معلوم ہوتا کہ آپ ایک خوش مذاق نوجوان ہیں اور بچوں سے کھیلنے میں ہی ساری لذت محسوس کرتے ہیں۔کسی بچہ کو کندھے پر اُٹھاتے ، کسی کو چھیڑتے ،کسی کو پیار فرماتے ہیں مگر جب بوڑھوں میں جاتے تو تو ایسا نظر آتا کہ بڑھاپا ہی بڑھاپا ہے۔آپ کے منہ سے عقل اور تدبیر کے پھول جھڑتے ہیں۔جب آپ دوستوں کی طرف توجہ کرتے تو معلوم ہوتا ہے ان کے سوا آپ کو کسی کا خیال تک نہیں۔مگر جب دشمن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ بھی اتنا ہی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے جتنا دوست۔یہ کہ دنیا کی کوئی نیکی ایسی نہیں جس میں آپ نمایاں نظر نہیں آتے اور نیکی اسی کا نام ہے۔یہ نیکی نہیں کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو، یہ تو طبیعت کا میلان ہے۔نیکی یہی کی ہے کہ ایک تھپڑ کھا کر دوسرا آگے کرنے کے موقع پر آگے کر دیا جائے اور مقابلہ کرنے کے موقع پر مقابلہ کیا جائے۔ہاتھ کھولنے کے موقع پر کھولا جائے اور بند رکھنے کے موقع پر بند رکھا جائے۔دوستوں کے تحفظ کا سوال ہو تو اس کا خیال رکھا جائے اور دشمنوں سے انصاف کا موقع ہو تو اس کا۔قضاء کے موقع پر بہترین کی قاضی بنا جائے اور لڑائی کے موقع پر بہترین جرنیل تعلیم کا معاملہ ہو تو انسان معلم بنے اور تربیت کا وقت ہو تو مربی۔اور اخلاق بیان کرنے کا وقت ہو تو عظیم الشان فلسفی نظر آئے۔غرضیکہ ساری نیکیوں کا خیال رکھا جائے۔یہی حقیقی اور کامل نیکی ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں طبیعت کا میلان نہیں ہوسکتیں۔ایسی حالت میں ماننا پڑے گا کہ اگر کچھ چیزیں طبیعت کا میلان ہیں تو کچھ ایسی بھی ہیں جو محض نیکی کی خاطر اور کی خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے کی جارہی ہیں۔یہ چیز ہے جو دنیا میں نیکی کو قائم کرنے کیلئے ضروری ہے۔