خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 643 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 643

خطبات محمود ۶۴۳ سال ۱۹۳۷ء جو لوگ چندہ دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر لیا اب ہمیں نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔یا جو نمازیں پڑھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ اب ہمیں زکوۃ کی ضرورت نہیں۔حج کر لیا تو خیال کر لیا کہ اب عمرہ کی کیا حاجت ہے۔روزہ رکھ کر سمجھ لیا کہ اب ہمیں اپنی یا ہمسائیوں کی تربیت اور لوگوں کے کی اخلاق کی نگرانی کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ صرف اپنے اپنے میلانات طبائع کی اتباع کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے احکام کی نہیں اور ایسے لوگ کبھی صحیح قومی ترقی حاصل نہیں کیا کرتے۔یہ مقصد ہے جسے تم نے کی حاصل کرنا ہے اور تم اس مقصد کے حصول کا ارادہ کر کے کھڑے ہوئے ہو۔اس کا نام خواہ تحریک جدید رکھ لو یا تحریک قدیم۔نام سے کوئی غرض نہیں ، اصل مقصود کام ہے۔اس کا نام خواہ کچھ رکھ لیا جائے اور یہ تحریک جدید نہیں بلکہ اسے تم تحریک اقدم کہہ سکتے ہو کیونکہ یہ آدم کے وقت سے ہے، کوئی نہیں تحریک نہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کام ہم نے کرنا ہے یا نہیں اور میرا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ خواہ کوئی اس سے متفق ہو یا نہ ہو کہ اگر ہم نے اس بات کو پورا نہ کیا اور قومی زندگی کو اس طرح نہ بدلا تو ہم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور ہمیشہ ناکام و نامرادر ہیں گے۔اگر واقعی ہمارا یہی مقصود ہے تو ہمیں سنجیدگی۔غور کرنا پڑے گا کہ اس راہ میں کیا کیا روکیں ہیں اور کن کن قربانیوں کی ہمیں ضرورت ہے۔اور جب ނ تک اس کے متعلق اپنے قلوب میں قطعی فیصلہ نہ کر لیں اس جہت میں کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی کام مشکل نہیں ہوتا ، مشکل اس کا سمجھ لینا اور ارادہ کر لینا ہوتا ہے۔جب یہ ہو جائے تو پھر کام آسان ہوتا ہے۔جو شخص کام کو سمجھتا نہیں اور صرف رو میں بہتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔مثلاً اگر جہاد کا وقت ہوا تو اس کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھے بغیر شامل ہو گیا۔تو جب اسے الله مشکلات نظر آئیں گی بھاگ اٹھے گا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی جو بغیر سوچے سمجھے ساتھ ہو لیتے تھے ان میں سے ہی بعض لڑائی میں سے بھاگ بھی آیا کرتے تھے۔پس کام میں روکیں صرف اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ بعض لوگ حقیقی طور پر اسے سمجھتے نہیں۔بعض لوگ تو بے سوچے ہی داخل ہو جاتے ہیں ر بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا ہے مگر حقیقت سمجھا نہیں ہوتا اور محض رو میں بہہ کر شامل ہو جاتے ہیں۔لیکن جب مشکلات دیکھتے ہیں تو پھر پیچھے ہٹتے ہیں۔ایسے لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کہتے ہیں کہ اپنے بہادری کی علامت کے طور پر شیر کی تصویر کندھے پر گدوانے گیا تھا۔پرانے کی زمانے میں یہ رواج تھا کہ لوگ اپنے جسموں پر مختلف تصویر میں گدوا لیتے تھے اور اس سے مراد یہ ہوتی تھی