خطبات محمود (جلد 18) — Page 641
خطبات محمود ۶۴۱ سال ۱۹۳۷ء فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو سے اب اگر ان کا سارا کریکٹر اسی نقطہ کے گرد گھومتا ہے اور یہی بات ان کے ہر عمل میں نظر آتی ہے تو یہ کوئی اعلیٰ خوبی نہیں۔اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کی تمام نیکیوں میں ان کے طبعی میلان کا دخل ہے۔نیکی دراصل اسی کی ہوتی ہے جس کی زندگی میں ہر قسم کی نیکیاں پائی جائیں۔جیسے ہمارے رسول کریم ﷺ کی ذات ہے۔عفو میں آپ نے ایسا نمونہ دکھایا کہ اس سے بہتر عفو نہیں ہوسکتا۔لڑائی میں اس قدر دلیر تھے کہ آپ سے بڑھ کر کوئی دلیر نظر نہیں آتا۔پالیسی میں اس قدر ذہین تھے کہ آپ سے بہت تدبیر کرنے والا اور سپاہیوں کو لڑانے والا کوئی دوسرا نہیں ملتا۔جب آپ تقریر کرتے تو ایسی کہ بڑے بڑے مقررین آپ کے سامنے بیچ نظر آتے۔ایک دفعہ آپ تقریر کرنے کیلئے صبح کھڑے ہوئے تو شام تک تقریر کرتے رہے صرف نماز کیلئے بند کرتے اور نماز پڑھ کر پھر شروع فرما دیتے۔مگر جب مختصر بات فرماتے تو ایسی کہ اس کی تفسیر میں کئی کتابیں لکھی جاسکیں۔گویا ایک طرف آپ کے لیکچر میں اتنی وسعت نظر آتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور دوسری طرف اختصاراً کلام فرماتے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جب آپ سخاوت کرتے تو انتہاء درجہ کی حتی کہ صحابہ کا بیان ہے کہ آپ پا لخصوص رمضان میں اس طرح سخاوت کرتے کہ جس طرح تیز آندھی چلتی ہے ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی لَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا ۵ پر آپ کا عمل تھا۔یعنی سخاوت کو فضول اور رائیگاں نہ گنواتے اور کی نہ بے محل استعمال کرتے۔حاتم طائی کی سخاوت تو تھی مگر بے محل۔کیونکہ وہ حلوائی کی دُکان پر دادا جی کی فاتحہ والی سخاوت تھی۔باپ کے مال پر اُس کا کیا حق تھا کہ اُسے تقسیم کر دیتا۔اس کے مقابل پر آنحضرت ایک طرف تو آپ اس قدرسخی تھے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان کے دنوں میں آپ اس طرح سخاوت کرتے کہ گویا تیز آندھی چل رہی ہے۔مگر دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک دفعہ آپ کی عزت کی اور کہا کہ آپ پانچ آدمیوں کو ساتھ لے آئیں۔آپ نے ی پانچ آدمیوں کو ساتھ لیا اور اس کے گھر کی طرف چلے۔رستہ میں ایک چھٹا آدمی ساتھ شامل ہو گیا۔بعض طبائع بے تکلف ہوتی ہیں اور ایسے لوگ خود بخو د ساتھ ہو جایا کرتے ہیں۔جب آپ اس شخص کے دروازے پر پہنچے تو فرمایا کہ اس نے صرف پانچ آدمیوں کی اجازت دی تھی ، چھ کی نہیں۔گویا جب دوسرے کے حق کا سوال پیدا ہوا تو آپ نے اس قدر احتیاط کی۔یوں تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک کی آدمی کا کھانا دو آدمی کھا سکتے ہیں مگر اس وقت یہ نہیں فرمایا کہ پانچ کا کھانا چھ کھا لیں گے۔کیونکہ یہاں